Thursday, 30 April 2026

جو مرا ہمنوا نہیں ہوتا

  جو مِرا ہمنوا نہیں ہوتا

وہ تِرے شہر کا نہیں ہوتا

شاخ پر ہیں ہرے بھرے پتّے

پھُول لیکن ہرا نہیں ہوتا

آج بھی آہنی جنُوں کا حق

پتھروں سے ادا نہیں ہوتا

کہکشاں کو نچوڑ کر پی لیں

جام پھر بھی جُدا نہیں ہوتا

مُنصفی میں دخیل ہیں کچھ لوگ

اس لیے میں بُرا نہیں ہوتا

وہ بُلاتے نہیں کبھی مجھ کو

پاس جب آئینہ نہیں ہوتا

ہاتھ سونا نگاہ چاندی کی

پاس امیروں کے کیا نہیں ہوتا

وہ صدائے طلب سے ڈرتے ہیں

اِک دریچہ بھی وا نہیں ہوتا

ہے یہ ذوقِ نظر کی بات ضیا

کوئی زیرِ رِدا نہیں ہوتا​


ضیاء عزیزی جے پوری​

سید خورشید علی 

No comments:

Post a Comment