مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے
نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے
نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں
فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے
میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں
بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے
کبھی ان پر بھی نظرِ کرم ہو
کیے ہیں قتل جو ناز و ادا سے
میں کُفر و دین سے واقف نہیں ہوں
نہیں آُٹھتا یہ سر اُس نقشِ پا سے
دو عالم چھوڑ کر تجھ کو ہی جاناں
بہت رو رو کے مانگا ہے خُدا سے
علیم اللہ صفی چشتی نظامی
No comments:
Post a Comment