وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں
اداسیاں مجھ کو دان کر کے
نئے سفر پر نکل گیا ہے
بچھڑ گیا ہے
میں اب ملوں گا اسے وہاں پر
جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش
تو کتنی باتیں جو کتنی صدیوں سے ان کہی ہیں
گلے لگا کر، کہوں گا اس سے
تمہارے ہونے سے رونقیں تھیں
تمہارے جانے کے بعد کتنے اداس سالوں کی سختیوں میں
تمہاری باتیں، تمہارا لہجہ
تمہارے قہقہے، تمہاری خوشبو
میں اپنے گاؤں کے کچے رستوں پہ کھوجتا تھا
تمہارے ہونے سے رونقیں تھیں
تمہارے جانے کے بعد جتنے برس جیا تھا
اداسیوں میں گھرا رہا تھا
میں خود سے شاید خفا رہا تھا
عثمان ملک
No comments:
Post a Comment