Tuesday, 21 April 2026

وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

 وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

اداسیاں مجھ کو دان کر کے 

نئے سفر پر نکل گیا ہے

بچھڑ گیا ہے

میں اب ملوں گا اسے وہاں پر

جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش

تو کتنی باتیں جو کتنی صدیوں سے ان کہی ہیں 

گلے لگا کر، کہوں گا اس سے

تمہارے ہونے سے رونقیں تھیں

تمہارے جانے کے بعد کتنے اداس سالوں کی سختیوں میں 

تمہاری باتیں، تمہارا لہجہ

تمہارے قہقہے، تمہاری خوشبو 

میں اپنے گاؤں کے کچے رستوں پہ کھوجتا تھا

تمہارے ہونے سے رونقیں تھیں

تمہارے جانے کے بعد جتنے برس جیا تھا

اداسیوں میں گھرا رہا تھا

میں خود سے شاید خفا رہا تھا


عثمان ملک

No comments:

Post a Comment