وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے
مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے
وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں
وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے
میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ
وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے
میں جس میں رہتا ہوں اک کائنات ہے مجھ میں
یہ کیا جہاں ہے جو میرے قفس سے باہر ہے
یہ کون رہتا ہے میرے وجود میں واحد
میرا قیام جو برسا برس سے باہر ہے
واحد سراج
No comments:
Post a Comment