دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی
چلتا ہے میرے ساتھ ستارا کبھی کبھی
ایسا نہیں کہ زیرِ ستم ہی رہے سدا
یہ بوجھ ہم نے سر سے اتارا کبھی کبھی
فرطِ نشاطِ وصل کی خاطر ہی جانِ جاں
کرتے ہیں تیرا ہجر گوارا کبھی کبھی
دریا میں جھومتی ہوئی لہروں کا انبساط
حسرت سے دیکھتا ہے کنارہ کبھی کبھی
صدیاں بس ایک پل میں گزاری ہیں بارہا
اک پل صدی میں ہم نے گزارا کبھی کبھی
قسمت سنوار دیتا ہے بس ایک آن میں
چشمِ کرم کا ایک اشارہ کبھی کبھی
کرتے ہیں تاج ہم بھی کبھی اپنے فیصلے
چلتا ہے اختیار ہمارا کبھی کبھی
تاج الدین تاج
No comments:
Post a Comment