Monday, 13 April 2026

لایا تھا تری بزم میں ہمراہ خودی کو

 لایا تھا تِری بزم میں ہمراہ خودی کو

کیا جانے اسے رکھ کے کہاں بھول گیا ہوں

قدموں سے لپٹ کر ترے روتا تو سہی میں

اے دوست مگر طرز فغاں بھول گیا ہوں

وحشت میں کئی بار جبیں جھک گئی لیکن

کیا جانے کیا سجدہ کہاں؟ بھول گیا ہوں

آئی ہیں محبت میں کچھ ایسی بھی منازل

اے دوست میں تجھ کو بھی جہاں بھول گیا ہوں


صبوحی دہلوی

سید ہدایت علی

No comments:

Post a Comment