لاہور
آ شہر پرانے چلتے ہیں
یہاں رات کو جگنو ہوتے تھے
یہاں میلے ٹھیلے رنگ برنگ
یہاں تارے راہ سُجاتے تھے
یہاں رستہ پوچھنے والوں کو
منزل تک جان پہنچاتے تھے
آ لاہور پرانے چلتے ہیں
چل خوشیاں چرانے چلتے ہیں
سنگ لمحے بتانے چلتے ہیں
گو بدلے ہیں حالات یہاں
ہاں ٹھیک ہے زیست روگ سی ہے
یہاں سانس بھی لینا بھاری ہے
ڈھیروں دکھ اور غربت ہے
اور پھیلا ہر سو سوگ بھی ہے
پر شہر یہ سارا اپنا ہے
چل اپنا حصہ ڈھونڈ آئیں
تھوڑا ہنس آئیں
تھوڑا کھیل آئیں
وہ باتیں، یادیں، رستے سب
ابھی کل ہی کے تو قصے ہیں
چل بھولے رستے کھوج آئیں
جل بجھتی راکھ کرید آئیں
لوگوں کے ستم ہیں اپنی جگہ
قدرت کے مہر ہیں اپنی جگہ
چل بیتے گذرے پہروں کا
اِک جشن منانے چلتے ہیں
چل خوشیاں چُرانے چلتے ہیں
سنگ لمحے بتانے چلتے ہیں
لاہور ابھی ویسا ہی تو ہے
چل شہر پرانے چلتے ہیں
عاطف محتشم خان
No comments:
Post a Comment