تیرا من بھی سوتا ہے
تو بھی جیون کھوتا ہے
من کی اُور دھیان نہیں
تن گنگا میں دھوتا ہے
کرشن بچارا سوکھے منہ
گوالا زہر بلوتا ہے
تو کس غم میں روتا ہے
سب کو اپنی پڑی ہے یہاں
کون کسی کا ہوتا ہے
تم کیوں جاگے رہتے ہو
نگر تو سارا سوتا ہے
اس سے پناہ نہیں ملتی
وہ شیطان کا پوتا ہے
آتے ہیں بھونچال بڑے
جب اوسان وہ کھوتا ہے
شبد اس کے زہریلے شول
ہر دم دل میں چبھوتا ہے
من دیکھو تو ریت ہی ریت
دامن خوب بھگوتا ہے
گھوڑا گاڑی میں اس نے
دیکھو گدھا لا جوتا ہے
دیکھنا گیہوں کاٹے گا
حالانکہ جَو بوتا ہے
دکھیارے کی چپ سے پوچھ
کیا کیا دکھ میں وہ ڈھوتا ہے
دیکھیں گے سب جھوٹ اور سچ
پرلے دن کا نیوتا ہے
محسن اردو ہے وہ بھی
جو اردو میں روتا ہے
کس کی صورت کس کی یاد
طارق دل میں سموتا ہے
طارق غازی
No comments:
Post a Comment