Wednesday, 29 April 2026

سنا ہے قندوز میں بچے مرے ہیں

 سُنا ہے قُندوز میں بچے مرے ہیں

مجھے سری دیوی کا غم ہے

میں اسٹیفن پہ آنسو بہا رہا ہوں

دونوں کو جنت لے جانا چاہ رہا ہوں

خونِ مُسلم بہت ارزاں ہے

تم کیوں غمگین ہو

مجھے دیکھو

کِن پہ آنسو بہا رہا ہوں

چھوڑو ناں؛ بچے حافظ تھے

کون سا کیمبرج میں پڑھتے تھے

کون سا انہیں انجینئر بننا تھا

یہ کیا خاک ڈاکٹر بنتے

ارے چھوڑو

 یہ کون سا کسی ماں کے لعل ہوں گے

ان کی بہنوں کے تو بہت سے بھائی ہوں گے

میں فرانس پر روتا ہوں

میں گوروں کے بچوں پر روتا ہوں

افسروں کے بچوں پر روتا ہوں

چُپ کرو یہ اپنا رونا دھونا

اس سے میرے گیتوں کی تال بگڑ رہی ہے

رقص میں ڈُوبی چال بِگڑ رہی ہے

کوئی بہت رو رہا ہے، مجھے کیا؟

سُنا ہے قُندوز میں بچے مرے ہیں


صہیب جمال

No comments:

Post a Comment