Thursday, 16 April 2026

راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے

 راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے

تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے

شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا

شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے

 ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا

سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے

میری خوشی کے واسطے مری لحد وہیں

 اس کی لحد کے پاس ہی بالکل وہیں بنے

تیرا بدن ہو بارشوں کی بوند کی طرح

میرا بدن سو اس کے لیے سرزمیں بنے

شاید تمہارے واسطے اک میں ہی ہوں بنا

شاید ہمارے واسطے اک ہو تمہیں بنے


عاقب جاوید

No comments:

Post a Comment