عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ ہیں خیر الوریٰ یا سیدی یا مصطفیٰؐ
آپ ہیں رب کی عطا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
جس نے تم سے کی دغا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
اس کو رب نے دی سزا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
ہم کو آلام و مصائب سے ملی فورا نجات
جب زباں پہ آ گیا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ ہیں خیر الوریٰ یا سیدی یا مصطفیٰؐ
آپ ہیں رب کی عطا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
جس نے تم سے کی دغا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
اس کو رب نے دی سزا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
ہم کو آلام و مصائب سے ملی فورا نجات
جب زباں پہ آ گیا یا سیدی یا مصطفیٰؐ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مرادیں دل کی وہ پانے لگے ہیں
درِ خواجہ پہ جو جانے لگے ہیں
بڑی عزت ملی سارے جہاں میں
تمہارے جب سے کہلانے لگے ہیں
زیارت ہو گئی جن کو تمہاری
مقدر پہ وہ اترانے لگے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دلِ مضطر سے جاری گفتگو ہے
دیارِ مصطفیٰﷺ کی آرزو ہے
نگاہِ عشق سے دیکھا جو ہم نے
جہاں میں ہر طرف بس تُو ہی تُو ہے
یہ دنیا ہو، لحد ہو، یا قیامت
بچاتی ان کی نسبت آبرو ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ ہر درد و غم سے کنارا کریں گے
جو میرے نبیﷺ کو پکارا کریں گے
ہے جن کے دلوں میں محبت تمہاری
وہی ذکر آقاﷺ تمہارا کریں گے
اجازت اگر دیں ہمیں مصطفیٰﷺ تو
مدینے کا ہم بھی نظارا کریں گے
آپ کا انتظار آج بھی ہے
دل مرا بے قرار آج بھی ہے
جب سے دیکھا ہے اک نظر تم کو
اس کا چھایا خمار آج بھی ہے
دوست تو بن گیا ہے وہ لیکن
نفرتوں کا غبار آج بھی ہے
اپنی مدہوش نگاہوں سے پلانے والے
تُو کہاں ہے مجھے دیوانہ بنانے والے
جن کی راہوں میں سدا پھول بچھائے میں نے
ہیں وہی رہ میں مری خار بچھانے والے
کھل نہ جائیں کہیں محشر میں مرے عیب سبھی
لے چھپا مجھ کو مرے عیب چھپانے والے