اپنی مدہوش نگاہوں سے پلانے والے
تُو کہاں ہے مجھے دیوانہ بنانے والے
جن کی راہوں میں سدا پھول بچھائے میں نے
ہیں وہی رہ میں مری خار بچھانے والے
کھل نہ جائیں کہیں محشر میں مرے عیب سبھی
لے چھپا مجھ کو مرے عیب چھپانے والے
داستاں غم کی سنائی ہے کسی نے جب بھی
آ گئی یاد تری دل کو دکھانے والے
ایک دن تجھ کو بھی احساسِ ندامت ہوگا
ظلم پر ظلم مری جان پہ ڈھانے والے
روک لیتا ہوں زباں سوچ کے کچھ میں لیکن
ویسے دل میں ہیں بہت راز بتانے والے
اب تعلّق نہیں مجھ کو ہے کسی سے لیکن
سوچ لے تو بھی مجھے چھوڑ کے جانے والے
غم نہ کر جلد ہی حالات بدل جائیں گے
صبر سے کام لے اے اشک بہانے والے
جب سے نظریں ہیں پھریں آپ کی مجھ سے اکرم
خوب جی بھر کے ستاتے ہیں ستانے والے
اکرم تلہری
No comments:
Post a Comment