جب قیس قبیلہ تھا اس شاہِ محبت کا
دربار لگاتے تھے جب چاہے محبت کا
بیکار گیا جادو،۔ بیکار ریاضت کی
بے کار گیا منتر، ہر آہِ محبت کا
پھر جسم کے معبد میں قندیل جلا کوئی
درویش رِہا کر دے اب راہِ محبت کا
سجادہ نشینِ تاج کچھ نذرِمجاور بھی
تعویذ عنایت ہو،۔ درگاہِ محبت کا
برسات ہو ساون ہو یا ہاڑ ہو آنکھوں میں
کچھ نام تو ہو گا ہی اس ماہِ محبت کا
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment