بگڑے ہوئے کچھ کام بنانے میں لگے ہیں
ہم اپنی محبت کو منانے میں لگے ہیں
خود ہاتھ ملانے کا نہیں جن کو سلیقہ
آدابِ ملاقات سکھانے میں لگے ہیں
فی الحال ہمیں فکر نہیں سست روی کی
فی الحال اسے ساتھ چلانے میں لگے ہیں
احباب مری کھوج میں کچھ دن سے مسلسل
ملبہ تری یادوں کا اٹھانے میں لگے ہیں
ہم اہلِ وفا اپنی وفاؤں کے سہارے
ٹوٹے ہوئے رشتے بھی نبھانے میں لگے ہیں
آنکھوں کے لیے نور ہے یہ کاسنی منظر
کچھ پھول تری زلف سجانے میں لگے ہیں
کل تک جو اڑاتے تھے مری بات ہنسی میں
آواز مری آج دبانے میں لگے ہیں
تیمور ذوالفقار
No comments:
Post a Comment