Showing posts with label ظفر گورکھپوری. Show all posts
Showing posts with label ظفر گورکھپوری. Show all posts

Saturday, 8 October 2022

دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بے گانا

اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا


دادا حیات تھے جب، مٹی کا ایک گھر تھا

چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا

کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری

شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی دوپہری

Wednesday, 20 July 2022

مرے مکان سے پہرا کبھی اٹھا ہی نہیں

 مِرے مکان سے پہرہ کبھی اٹھا ہی نہیں

میں بھاگ جاتا مجھے راستہ ملا ہی نہیں

ستم شعاروں کی موجودگی سے لگتا ہے

ابھی زمیِں پہ کوئی معرکہ ہوا ہی نہیں

ہوائیں کرتی ہیں کس منزِل مراد کا شور

گجر بجا ہی نہیں کارواں چلا ہی نہیں

Thursday, 14 October 2021

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

 پکارے جا رہے ہو اجنبی سے، چاہتے کیا ہو

خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو

یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں

بنا کر بُت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو

نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ

میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو

Saturday, 10 July 2021

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

 بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں

دکھائے بیچ دریا کون رستہ؟

فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں

معانی کیا رہے خودداریوں کے

کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں

Saturday, 26 September 2020

اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا

گیت


 اور آہستہ کیجیۓ باتیں

دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا

لفظ گرنے نہ پائے ہونٹوں سے

وقت کے ہاتھ ان کو چن لیں گے

کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار

راز کی ساری بات سن لیں گے

Saturday, 19 September 2020

قریب آؤ کہ ان بیقرار راتوں میں

 پسِ چلمن


قریب آؤ کہ ان بے قرار راتوں میں

میری نگاہ، نئے خواب بُن رہی ہے آج

تمہارے ماتھے پہ، میری بجھی بجھی امید

کچھ ایسا لگتا ہے، افشاں سی چُن رہی ہے آج

تم اپنے جُوڑے میں گوندھو، میری اداس شبیں

میں اپنی نظم کے اشعار میں، پرو لوں تمہیں

Monday, 13 July 2020

ظفر مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا

بدن" کجلا گیا تو "دل" کی "تابانی" سے نکلوں گا"
میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے
مجھے "مٹی" کیا تم نے تو میں "پانی" سے نکلوں گا
تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو
اگر اترا "لہو" میں پھر نہ "آسانی" سے نکلوں گا

میں نئے گھر میں بہت رویا پرانے کے لیے

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے
بن گئی ہے "مسئلہ" سارے "زمانے" کے لیے
ریت میری "عمر" میں بچہ نرالے میرے کھیل
میں نے دیواریں اٹھائی ہیں "گرانے" کے لیے
وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا
اک "تبسم" جو تھا دنیا کو "دکھانے" کے لیے

Monday, 29 October 2018

نکل تو آؤں سوالوں کی بھیڑ سے لیکن

نظم

نکل تو آؤں سوالوں کی بھیڑ سے لیکن
سوال یہ ہے کہ کس کس سوال سے نکلوں
ابھی تک نیند میں رہ رہ کے بچے چیختے ہیں
جو اس بستی پہ گزری آپ نے دیکھا نہیں کیا
آگ کس ہاتھ میں ہے کون دیتا ہے ہوا
کس کا کیا کھیل یہاں بستیاں جانتی ہیں

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے
لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے
نیزے پہ رکھ کہ اور میرا سر بلند کر
دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے

Monday, 5 December 2016

مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے

مِرا قلم، مِرے جذبات مانگنے والے
مجھے نہ مانگ مِرا ہاتھ مانگنے والے
یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے
یہ سب تھے بھیک مِرے ساتھ مانگنے والے
اٹھا سکے گا نہ سینے پہ یہ سیاہ پہاڑ
کچھ اور مانگ مِری رات مانگنے والے

کتنوں ہی کے سر سے سایہ جاتا ہے

کتنوں ہی کے سر سے سایہ جاتا ہے
جب اک پیپل کاٹ گرایا جاتا ہے
دھرتی خود بھی کھا جاتی ہے فصلوں کو
چڑیوں پر الزام لگایا جاتا ہے
پیاسوں سے ہمدردی رکھی جاتی ہے
بادل اپنے گھر برسایا جاتا ہے

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

اشکِ غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا
اب کے آغازِ سفر سوچ سمجھ کے کرنا 
دشت ملنے کا نہیں، گھر بھی نہیں آنے کا
ہائے، کیا ہم نے تڑپنے کا صِلہ پایا ہے 
ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا

زندگی نے مجھے سوغات انوکھی دی ہے

زندگی نے مجھے سوغات انوکھی دی ہے
تیشہ اک ہاتھ میں، اک ہاتھ میں سنبی دی ہے
کون جانے کہ ہوس جسم سے کیا کیا لے جاۓ
چور کے ہاتھ میں صندوق کی کنجی دی ہے
کتنی آسانی سے مشہور کِیا ہے خود کو
میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دی ہے

Friday, 18 December 2015

جب میری یاد ستائے تو مجھے خط لکھنا

گیت

جب میری یاد ستائے تو مجھے خط لکھنا
تم کو جب نیند نہ آئے تو مجھے خط لکھنا

نیلے پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں ہنستا ساون
پیاسی دھرتی میں سمانے کو ترستا ساون
رات بھر چھت پہ لگاتار برستا ساون
دل میں جب آگ لگائے تو مجھے خط لکھنا

مجبوری کے موسم میں بھی جینا پڑتا ہے

گیت

مجبوری کے موسم میں بھی جینا پڑتا ہے
تھوڑا سا سمجھوتہ جانم کرنا پڑتا ہے

کبھی کبھی کچھ اِس حد تک بڑھ جاتی ہے لاچاری
لگتا ہے یہ جیون جیسے بوجھ ہو کوئی بھاری
دِل کہتا ہے روئیں، لیکن ہنسنا پڑتا ہے

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے

مِرا قلم، مِرے جذبات مانگنے والے
مجھے نہ مانگ ، مِرا ہاتھ مانگنے والے
یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے
یہ سب تھے بھیک مِرے ساتھ مانگنے والے
اٹھا سکے گا نہ سینے پہ یہ سیاہ پہاڑ
کچھ اور مانگ مِری رات مانگنے والے

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے میرے کمرے میں

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مِرے کمرے میں
سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مِرے کمرے میں
غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا
کچھ دنوں کے لیے ٹهہرا ہے مِرے کمرے میں
صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا
تجھ کو ایک شخص نے دیکھا ہے مِرے کمرے میں

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی
رہے نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی
ملا کے نظروں کو والہانہ حیا سے پھر
جھکا لے کوئی نظر تو سمجھو غزل ہوئی
اِدھر مچل کر انہیں پکارے جنوں میرا
دھڑک اٹھے دل اُدھر تو سمجھو غزل ہوئی

دھوپ ہے کیا اور سایہ کیا ہے اب معلوم ہوا

دھوپ ہے کیا اور سایہ کیا ہے اب معلوم ہوا
یہ سب کھیل تماشا کیا ہے، اب معلوم ہوا
ہنستے پھول کا چہرہ دیکھوں اور بھر آئے آنکھ 
اپنے ساتھ یہ قصہ کیا ہے، اب معلوم ہوا
ہم برسوں کے بعد بھی ان کو اب تک بھول نہ پائے
دل سے ان کا رشتہ کیا ہے، اب معلوم ہوا