دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بے گانا
اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
دادا حیات تھے جب، مٹی کا ایک گھر تھا
چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا
کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری
شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی دوپہری
دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بے گانا
اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
دادا حیات تھے جب، مٹی کا ایک گھر تھا
چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا
کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری
شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی دوپہری
مِرے مکان سے پہرہ کبھی اٹھا ہی نہیں
میں بھاگ جاتا مجھے راستہ ملا ہی نہیں
ستم شعاروں کی موجودگی سے لگتا ہے
ابھی زمیِں پہ کوئی معرکہ ہوا ہی نہیں
ہوائیں کرتی ہیں کس منزِل مراد کا شور
گجر بجا ہی نہیں کارواں چلا ہی نہیں
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے، چاہتے کیا ہو
خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو
یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں
بنا کر بُت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو
نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ
میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو
بلندی سے اتارے جا چکے ہیں
زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں
دکھائے بیچ دریا کون رستہ؟
فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں
معانی کیا رہے خودداریوں کے
کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں
گیت
اور آہستہ کیجیۓ باتیں
دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا
لفظ گرنے نہ پائے ہونٹوں سے
وقت کے ہاتھ ان کو چن لیں گے
کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار
راز کی ساری بات سن لیں گے
پسِ چلمن
قریب آؤ کہ ان بے قرار راتوں میں
میری نگاہ، نئے خواب بُن رہی ہے آج
تمہارے ماتھے پہ، میری بجھی بجھی امید
کچھ ایسا لگتا ہے، افشاں سی چُن رہی ہے آج
تم اپنے جُوڑے میں گوندھو، میری اداس شبیں
میں اپنی نظم کے اشعار میں، پرو لوں تمہیں