زندگی نے مجھے سوغات انوکھی دی ہے
تیشہ اک ہاتھ میں، اک ہاتھ میں سنبی دی ہے
کون جانے کہ ہوس جسم سے کیا کیا لے جاۓ
چور کے ہاتھ میں صندوق کی کنجی دی ہے
کتنی آسانی سے مشہور کِیا ہے خود کو
زندگی دی ہے مجھے آگ کے دریا کی طرح
پار اترنے کے لئے موم کی کشتی دی ہے
بے تحاشا میں تیرے گھر کی طرف بھاگا ہوں
ان مشینوں نے ذرا دیر جو چھٹی دی ہے
کیسے بھیگے ہوۓ ہاتھوں سے سنبھالو گے ظفرؔ
اس نے کاغذ پہ بنا کر تمہیں تتلی دی ہے
ظفر گورکھپوری
No comments:
Post a Comment