Showing posts with label گنیش بہاری طرز. Show all posts
Showing posts with label گنیش بہاری طرز. Show all posts

Wednesday, 14 December 2016

مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی

مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی
پینے والو! جی بھر کر پی لو، آج ہی پی لو کل کی بھی
آج ہے اپنا رات بھی اپنی، آج منا لو جشن کوئی
کل کو جانے کیا ہو جائے، کس کو خبر ہے پل کی بھی
ڈھونڈنے پہنچی میخانے میں اور خود کو ہی کھو بیٹھی
ایسا رس برسا جیون کا، لگ گئی آنکھ اجل کی بھی

یہ وادیاں ہیں پیار کی یہی یہاں کی ریت ہے

یہ وادیاں ہیں پیار کی یہی یہاں کی ریت ہے
سنبھل گئے تو ہار ہے، بہک گئے تو جیت ہے
یہ مستیاں غلط نہیں، یہ لغزشیں خطا نہیں
یہ مۓ کدہ ہے مہرباں! یہی یہاں کی ریت ہے
میں کس طرح سے ناصحا! خیال ان کا چھوڑ دوں
جنم جنم کا پیار ہے، جنم جنم کی پریت ہے

اٹھاؤ جام غنیمت یہ رات ہے یارو

اٹھاؤ جام، غنیمت یہ رات ہے یارو
کہ اب تو ملنا بھی قسمت کی بات ہے یارو
ہزار یوں تو زمانے کا ساتھ ہے یارو
تمہارے ساتھ کی کچھ اور بات ہے یارو
گزار دو یوں ہی پی پی کے صبح ہونے تک
بڑی طویل جدائی کی رات ہے یارو

Thursday, 28 April 2016

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے
کیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائے
ہائے رے ان کے فریبِ وعدۂ فردا کا جال
دیکھتے ہی دیکھتے اک در بنے اور ٹوٹ جائے
حادثوں کی ٹھوکروں سے چُور ہونا ہے تو پھر
کیوں نہ خاموشی سے دل ساغر بنے اور ٹوٹ جائے

دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزل

دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزل
اترا جو نور، نورِ خدا بن گئی غزل
گونجا جو نادِ برَہم، بنی رقصِ مہر و ماہ
ذرے جو تھرتھرائے، صدا بن گی غزل
چمکی کہیں جو برق تو احساس بن گئی
چھائی کہیں گھٹا، تو ادا بن گئی غزل 

Friday, 11 April 2014

اک ذرا دل کے قریب آؤ تو کچھ چین پڑے

اِک ذرا دل کے قریب آؤ تو کچھ چین پڑے
جام کو جام سے ٹکراؤ تو کچھ چین پڑے
بیٹھے بیٹھے تو ہر موج سے دل دِہلے گا
بڑھ کے طوفان سے ٹکراؤ تو کچھ چین پڑے
جی اُلجھتا ہے نغمۂ رنگیں سُن کر
گیت ایک درد بھرا گاؤ تو کچھ چین پڑے

ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں

ماحول سازگار کرو، میں نشے میں ہوں
ذکر نگاہِ یار کرو، میں نشے میں ہوں
اے گردشو! تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی
اب میرا انتظار کرو، میں نشے میں ہوں
میں تم کو چاہتا ہوں، تمہیں پر نگاہ ہے
ایسے میں اعتبار کرو، میں نشے میں ہوں

Monday, 11 November 2013

دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہ

دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہ
فرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہ
ہم تو سرگرمِ سفر ہیں اور رہیں گے عمر بھر
منزلیں اپنی جگہ، آوارگی اپنی جگہ
پتھروں کے دیس میں شیشے کا ہے اپنا وقار
دیوتا اپنی جگہ اور آدمی اپنی جگہ

Sunday, 29 July 2012

عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی

عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی
سب کچھ کرنا، عشق نہ کرنا، عشق سے جان بچانا جی
وقت نہ دیکھے، عمر نہ دیکھے، جب چاہے مجبور کرے
موت اور عشق کے آگے تو کوئی چلے نہ بہانہ جی
عشق کی ٹھوکر موت کی ہچکی دونوں کا ہے ایک اثر
ایک کرے گھر گھر رسوا، ایک کرے افسانہ جی

مجھے دے کے مے میرے ساقیا میری تشنگی کو ہوا نہ دے

مجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تشنگی کو ہوا نہ دے
میری پیاس پر بھی تو کر نظر، مجھے میکشی کی سزا نہ دے
میرا ساتھ، اے میرے ہمسفر! نہیں چاہتا ہے، تو جام دے
مگر اس طرح سرِ راہگزر مجھے ہر قدم پہ صدا نہ دے
میرا غم نہ کر میرے چارہ گر، تیری چارہ جوئی بجا مگر
میرا درد ہے میری زندگی، مجھے دردِ دل کی دوا نہ دے