مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی
پینے والو! جی بھر کر پی لو، آج ہی پی لو کل کی بھی
آج ہے اپنا رات بھی اپنی، آج منا لو جشن کوئی
کل کو جانے کیا ہو جائے، کس کو خبر ہے پل کی بھی
ڈھونڈنے پہنچی میخانے میں اور خود کو ہی کھو بیٹھی
ایسا رس برسا جیون کا، لگ گئی آنکھ اجل کی بھی