اٹھاؤ جام، غنیمت یہ رات ہے یارو
کہ اب تو ملنا بھی قسمت کی بات ہے یارو
ہزار یوں تو زمانے کا ساتھ ہے یارو
تمہارے ساتھ کی کچھ اور بات ہے یارو
گزار دو یوں ہی پی پی کے صبح ہونے تک
بس ایک نشہ ہے جو ساتھ ساتھ جائے گا
وگرنہ جو بھی ہے سب بے ثبات ہے یارو
کسی کی یاد کے صدقے کہ راہِ غربت میں
لگے ہے جیسے کوئی ساتھ ساتھ ہے یارو
گنیش بہاری طرز
No comments:
Post a Comment