یہ وادیاں ہیں پیار کی یہی یہاں کی ریت ہے
سنبھل گئے تو ہار ہے، بہک گئے تو جیت ہے
یہ مستیاں غلط نہیں، یہ لغزشیں خطا نہیں
یہ مۓ کدہ ہے مہرباں! یہی یہاں کی ریت ہے
میں کس طرح سے ناصحا! خیال ان کا چھوڑ دوں
سنبھل دلِ حزیں سنبھل، وہ موڑ آ گیا جہاں
بس اک قدم پہ ہار ہے، بس اک قدم پہ جیت ہے
ترنم اور غزل ہیں طرزؔ محویت کی منزلیں
یہ زندگی کا ساز ہے، وہ زندگی کا گیت ہے
گنیش بہاری طرز
No comments:
Post a Comment