Wednesday, 14 December 2016

یہ وادیاں ہیں پیار کی یہی یہاں کی ریت ہے

یہ وادیاں ہیں پیار کی یہی یہاں کی ریت ہے
سنبھل گئے تو ہار ہے، بہک گئے تو جیت ہے
یہ مستیاں غلط نہیں، یہ لغزشیں خطا نہیں
یہ مۓ کدہ ہے مہرباں! یہی یہاں کی ریت ہے
میں کس طرح سے ناصحا! خیال ان کا چھوڑ دوں
جنم جنم کا پیار ہے، جنم جنم کی پریت ہے
سنبھل دلِ حزیں سنبھل، وہ موڑ آ گیا جہاں
بس اک قدم پہ ہار ہے، بس اک قدم پہ جیت ہے
ترنم اور غزل ہیں طرزؔ محویت کی منزلیں
یہ زندگی کا ساز ہے، وہ زندگی کا گیت ہے

گنیش بہاری طرز

No comments:

Post a Comment