Wednesday, 14 December 2016

مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی

مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی
پینے والو! جی بھر کر پی لو، آج ہی پی لو کل کی بھی
آج ہے اپنا رات بھی اپنی، آج منا لو جشن کوئی
کل کو جانے کیا ہو جائے، کس کو خبر ہے پل کی بھی
ڈھونڈنے پہنچی میخانے میں اور خود کو ہی کھو بیٹھی
ایسا رس برسا جیون کا، لگ گئی آنکھ اجل کی بھی
برق بھی گل بھی آگ بھی، جل بھی سامنے اوجھل بھی تو
یہ بھی وہ بھی اور نہیں بھی حد ہوتی ہے چھل کی بھی
طرزؔ چلو سو جاؤ بھی، آس ملن کی ختم ہوئی
صبح کا تارا ڈوب چلا ہے، رات کی چونر ڈھلکی بھی

گنیش بہاری طرز

No comments:

Post a Comment