مست سماں ہے رات جواں ہے مے ہے صراحی چھلکی بھی
پینے والو! جی بھر کر پی لو، آج ہی پی لو کل کی بھی
آج ہے اپنا رات بھی اپنی، آج منا لو جشن کوئی
کل کو جانے کیا ہو جائے، کس کو خبر ہے پل کی بھی
ڈھونڈنے پہنچی میخانے میں اور خود کو ہی کھو بیٹھی
برق بھی گل بھی آگ بھی، جل بھی سامنے اوجھل بھی تو
یہ بھی وہ بھی اور نہیں بھی حد ہوتی ہے چھل کی بھی
طرزؔ چلو سو جاؤ بھی، آس ملن کی ختم ہوئی
صبح کا تارا ڈوب چلا ہے، رات کی چونر ڈھلکی بھی
گنیش بہاری طرز
No comments:
Post a Comment