اک نیا رشتہ بنا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
دھڑکنوں نے کچھ کہا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
اب جدائی کا تصور ہے نا ملنے کا خیال
مجھ کو یہ کیا ہو گیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
پیاس آنکھوں میں دھری تھی اور لب خاموش تھے
ملگجی سی شام میں اک چاند کا سایہ تھا وہ
اس کو بس سوچا کیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
ہر طرف صحرا تھا کانٹے تھے سلگتی ریت تھی
کیسا جل تھل ہو گیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
نیلما درانی
No comments:
Post a Comment