Wednesday, 14 December 2016

اک نیا رشتہ بنا ہے دل سے دل ملنے کے بعد

اک نیا رشتہ بنا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
دھڑکنوں نے کچھ کہا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
اب جدائی کا تصور ہے نا ملنے کا خیال
مجھ کو یہ کیا ہو گیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
پیاس آنکھوں میں دھری تھی اور لب خاموش تھے
گویا امرت پی لیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
ملگجی سی شام میں اک چاند کا سایہ تھا وہ
اس کو بس سوچا کیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد
ہر طرف صحرا تھا کانٹے تھے سلگتی ریت تھی
کیسا جل تھل ہو گیا ہے دل سے دل ملنے کے بعد

نیلما درانی

No comments:

Post a Comment