Showing posts with label فخر رضوی. Show all posts
Showing posts with label فخر رضوی. Show all posts

Wednesday, 24 July 2024

جو راہ حق کی زمانے بھر کو دکھا رہا ہے وہ مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو راہ حق کی زمانے بھر کو دکھا رہا ہے وہ مصطفیٰؐ ہے

خدا کے گھر کو جو آ کے کعبہ بنا رہا ہے وہ مصطفیٰؐ ہے

بنائے شمس و قمر بچھائی زمین، عرشِ علیٰ بنایا 

تو جس کی خاطر خدا یہ دنیا سجا رہا ہے وہ مصطفیٰؐ ہے

ہو مال و دولت یا خوں پسینا خدیجہؑ بى بى کا ہے خزینہ 

خدا کے دیں پہ جو اپنا سب کچھ لٹا رہا ہے وہ مصطفیٰؐ ہے

Thursday, 11 July 2024

کیوں قلب ستمگر میں ہے کہرام نیا سا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیوں قلبِ ستمگر میں ہے کہرام نیا سا

زنجیر سے یہ کس نے لیا کام نیا سا

اے میرے قلم باندھ کے احرام نیا سا

کر مدحتِ سجادؑ میں کچھ کام نیا سا

نکلا تھا میں سجادؑ کی مدحت کے سفر میں

منظر نظر آیا مجھے ہر گام نیا سا

Tuesday, 9 July 2024

کیا کہیں ہم در شبیر سے کیا لے آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیا کہیں ہم درِ شبیرؑ سے کیا لے آئے

اپنے ہر درد کی مولا سے دوا لے آئے

واپسی کرب و بلا سے جو وطن کو پلٹے

ساتھ میں فاطمہ زہراؑ کی دعا لے آئے

کھینچ کر خاک پہ خط تیغ سے غازیؑ نے کہا

جس میں ہمت ہے قدم آگے بڑھا لے آئے 

Saturday, 29 June 2024

خلقت نعت جب ہوئی ہو گی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خلقتِ نعت جب ہوئی ہو گی

ابو طالبؑ نے ہی لکھی ہو گی

رُخ سے جس دم نقاب اُلٹے گا

سارے عالم میں روشنی ہو گی

پُوچھتے ہیں رسولؐ، آخر کب

قبرِ زہرا ؑ پہ روشنی ہو گی؟

Friday, 28 June 2024

حسیں سے حسیں تر سماں کر دیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسیں سے حسیں تر سماں کر دیا ہے

جو ذکرِ شہہِ دو جہاں کر دیا ہے

یہ کہتے تھے ابنِ مظاہر سبھی سے

مجھے دیکھو شہہؑ نے جواں کر دیا ہے

سب ارزق کے بیٹوں کو قاسمؑ نے پل میں

جہنم کی جانب رواں کر دیا ہے

Thursday, 27 June 2024

ثانئ حیدر کرار کی تلوار ہوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

شمشیرِ ابوالفضل العباسؑ


ثانئ حیدرِ کرّار کی تلوار ہوں میں

دشمنِ دینِ خدا کے لیے للکار ہوں میں

شام والوں کے لیے آہنی دیوار ہوں میں

غیظ آ جائے تو پھر موت کا بازار ہوں میں

موت سر پہ ہو کھڑی جب میں وہی لمحہ ہوں

رعب میں تیغِ ید اللہ کی ہم پلّہ ہوں