Showing posts with label مشتاق مہدی. Show all posts
Showing posts with label مشتاق مہدی. Show all posts

Saturday, 10 June 2023

چہرہ چہرہ بہتا پانی

 چہرہ چہرہ بہتا پانی

ایک جگہ کیا رہتا پانی

راز یگوں کے جانے مانے

ایک تجھی میں رہتا پانی

اپنی اپنی ندیا ڈھونڈے

کہتا سنتا رہتا پانی

Friday, 1 April 2022

شہر غم کی رات ہے مشکل بہت

 شہرِ غم کی رات ہے مشکل بہت

اے ستارو! آج تنگ ہے دل بہت

رن کو نکلے تھے سبھی اک جان سے

کچھ مگر لوٹے کہ تھے بزدل بہت

غیر میں کس کو کہوں سب دوست ہیں

💢دشمنی پر کچھ مگر مائل بہت

Saturday, 27 November 2021

پوچھنا کیا ہے کیوں وہ آیا تھا

 پوچھنا کیا ہے کیوں وہ آیا تھا

باغ میں تتلیوں نے لایا تھا

رات شعلہ تھی آب پر چمکی

آنکھ میں دیر تک اجالا تھا

میں نے شیشے کو چھو لیا تھا بس

کانپنے کیوں لگا جو اپنا تھا

Sunday, 22 August 2021

دشت دریا مانگتا ہے

 اب کے وہ بس چیختا ہے

دشت دریا مانگتا ہے 

رات رونے پر تُلی ہے 

دن کا چہرہ بھی تھکا ہے

ہاتھ دھوئے سب نے ہی پر

خون پیڑوں پر جما ہے 

Monday, 2 August 2021

منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں جاں

 منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں  جاں

یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں

جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید

وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں

میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار

اُتار کر ہی جا میں پاؤں سوئے آسماں