چہرہ چہرہ بہتا پانی
ایک جگہ کیا رہتا پانی
راز یگوں کے جانے مانے
ایک تجھی میں رہتا پانی
اپنی اپنی ندیا ڈھونڈے
کہتا سنتا رہتا پانی
چہرہ چہرہ بہتا پانی
ایک جگہ کیا رہتا پانی
راز یگوں کے جانے مانے
ایک تجھی میں رہتا پانی
اپنی اپنی ندیا ڈھونڈے
کہتا سنتا رہتا پانی
شہرِ غم کی رات ہے مشکل بہت
اے ستارو! آج تنگ ہے دل بہت
رن کو نکلے تھے سبھی اک جان سے
کچھ مگر لوٹے کہ تھے بزدل بہت
غیر میں کس کو کہوں سب دوست ہیں
💢دشمنی پر کچھ مگر مائل بہت
پوچھنا کیا ہے کیوں وہ آیا تھا
باغ میں تتلیوں نے لایا تھا
رات شعلہ تھی آب پر چمکی
آنکھ میں دیر تک اجالا تھا
میں نے شیشے کو چھو لیا تھا بس
کانپنے کیوں لگا جو اپنا تھا
اب کے وہ بس چیختا ہے
دشت دریا مانگتا ہے
رات رونے پر تُلی ہے
دن کا چہرہ بھی تھکا ہے
ہاتھ دھوئے سب نے ہی پر
خون پیڑوں پر جما ہے
منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں جاں
یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں
جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید
وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں
میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار
اُتار کر ہی جا میں پاؤں سوئے آسماں