منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں جاں
یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں
جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید
وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں
میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار
اُتار کر ہی جا میں پاؤں سوئے آسماں
اگرچہ اب سبھی نے کی ہیں کھڑکیاں بھی بند
چھپا سکیں گے کس طرح چراغ کا دھواں
عزیزِ جاں یہ نام و نسب سب نصیب کا
مِرا ہے کیا یہ شبد ہی رہیں گے اک نشاں
مشتاق مہدی
No comments:
Post a Comment