Monday, 2 August 2021

منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں جاں

 منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں  جاں

یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں

جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید

وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں

میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار

اُتار کر ہی جا میں پاؤں سوئے آسماں

اگرچہ اب سبھی نے کی ہیں کھڑکیاں بھی بند

چھپا سکیں گے کس طرح چراغ کا دھواں

عزیزِ جاں یہ  نام و نسب سب  نصیب کا

مِرا ہے کیا یہ شبد ہی رہیں گے اک نشاں

 

مشتاق مہدی

No comments:

Post a Comment