تم امرتا پریتم
تمہاری آنکھوں میں زندگی
یہ لہجے کی نغمگی
یہ لفظوں کی شستگی
سب وہی ہے
اور میں آج بھی نِرا ساحر
ہونق، حواس باختہ، کمزور سا وجود
میرے لفظ آج بھی وہی ہیں
بے مثال، باکمال، بے حدود، بے قیود
تمہارا اورمیرا عشق بھی وہی ہے
بے جوڑ، بے ضبط، بے رنگ، بے ڈھنگ
تم امرتا پریتم
اور کہاں میں ساحر
یہ ملاپ کبھی ہو نہیں سکتا
جس باب کو کل ادھورا چھوڑا تھا
آج بھی وہ کتاب ہو نہیں سکتا
عثمان غازی
No comments:
Post a Comment