Monday, 2 August 2021

تم امرتا پریتم اور کہاں میں ساحر

 تم امرتا پریتم

تمہاری آنکھوں میں زندگی

یہ لہجے کی نغمگی

یہ لفظوں کی شستگی

سب وہی ہے

اور میں آج بھی نِرا ساحر

ہونق، حواس باختہ، کمزور سا وجود

میرے لفظ آج بھی وہی ہیں

بے مثال، باکمال، بے حدود، بے قیود

تمہارا اورمیرا عشق بھی وہی ہے

بے جوڑ، بے ضبط، بے رنگ، بے ڈھنگ

تم امرتا پریتم

اور کہاں میں ساحر

یہ ملاپ کبھی ہو نہیں سکتا

جس باب کو کل ادھورا چھوڑا تھا

آج بھی وہ کتاب ہو نہیں سکتا


عثمان غازی

No comments:

Post a Comment