دیس میں خر ہیں زیادہ تو فرس تھوڑے ہیں
اتنے آوارہ گدھے کس نے یہاں چھوڑے ہیں
خواب غفلت بڑا گہرا ہے جو مدہوش ہے قوم
گرچہ آفات نے در اس کے بھی جھنجوڑے ہیں
یادِ ماضیِ قریب اتنی الم ناک ہے کیوں؟
جسدِ قوم پہ جوں دُکھتے ہوئے پھوڑے ہیں
جس نے بھی تھامی عِناں ملکِ خداداد کی ہے
اس نے اربوں کے کئی قرض یہاں چھوڑے ہیں
حکمرانوں نے تو پیسے ہی سدا جوڑے ہیں
عام لوگوں پہ گرانی کے سدا کوڑے ہیں
دعویٰ جن کو ہے حکومت کا وہ تو ہیرے ہیں
اور عوام ان کی نگاہوں میں نِرے روڑے ہیں
مثلِ سیلابِ بلا اہلِ حکومت ہیں تو کیا
حوصلوں نے کئی سیلابِ بلا موڑے ہیں
کلیم چغتائی
No comments:
Post a Comment