Monday, 2 August 2021

دیس میں خر ہیں زیادہ تو فرس تھوڑے ہیں

 دیس میں خر ہیں زیادہ تو فرس تھوڑے ہیں

اتنے آوارہ گدھے کس نے یہاں چھوڑے ہیں

خواب غفلت بڑا گہرا ہے جو مدہوش ہے قوم

گرچہ آفات نے در اس کے بھی جھنجوڑے ہیں

یادِ ماضیِ قریب اتنی الم ناک ہے کیوں؟

جسدِ قوم پہ جوں دُکھتے ہوئے پھوڑے ہیں

جس نے بھی تھامی عِناں ملکِ خداداد کی ہے

اس نے اربوں کے کئی قرض یہاں چھوڑے ہیں

حکمرانوں نے تو پیسے ہی سدا جوڑے ہیں

عام لوگوں پہ گرانی کے سدا کوڑے ہیں

دعویٰ جن کو ہے حکومت کا وہ تو ہیرے ہیں

اور عوام ان کی نگاہوں میں نِرے روڑے ہیں

مثلِ سیلابِ بلا اہلِ حکومت ہیں تو کیا

حوصلوں نے کئی سیلابِ بلا موڑے ہیں


کلیم چغتائی

No comments:

Post a Comment