ماہِ صیام
تسبیح کے دن اور مناجات کی راتیں
ہیں رحمتِ باری سے ملاقات کی راتیں
بن جائیں کاش حشر میں بخشش کا وسیلہ
یہ ذوقِ تلاوت، یہ عبادات کی راتیں
اس ماہ میں اللہ نے قرآن دیا ہے
یہ رب کے ہیں انعام کی سوغات کی راتیں
ماہِ صیام
تسبیح کے دن اور مناجات کی راتیں
ہیں رحمتِ باری سے ملاقات کی راتیں
بن جائیں کاش حشر میں بخشش کا وسیلہ
یہ ذوقِ تلاوت، یہ عبادات کی راتیں
اس ماہ میں اللہ نے قرآن دیا ہے
یہ رب کے ہیں انعام کی سوغات کی راتیں
دل کا مِرے جہان یہ وِیراں ہے کس لیے
تنہائیوں کے بوجھ سے نالاں ہے کس لیے
ہو جائے گا وجود تِرا خاک ایک دن
مٹی کے اس بدن پہ تُو نازاں ہے کس لیے
ہر گام پر بچائے گی ماں کی دعا تجھے
رستے کی مشکلوں سے ہراساں ہے کس لیے
اک بار کی نہیں، ہے یہ ہر بار کی سزا
تا عمر اب ملے گی مجھے پیار کی سزا
جلنے لگا ہے طور کی مانند سارا جسم
کتنی حسین ہے تِرے دیدار کی سزا
سینچا ہے ہم نے اپنے لہو سے وطن کاباغ
اور دے رہے ہیں وہ ہمیں غدار کی سزا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
دنیا سمجھ سکے گی نہ رتبہ حسینؑ کا
افضل ہے کُل جہاں میں گھرانہ حسین کا
ہم کو یزیدِ وقت سے خطرہ نہیں کوئی
پڑھتے رہیں گے یوں ہی قصیدہ حسین کا
نامِ یزید مٹ گیا سارے جہان سے
لیکن ہے ہر زبان پہ چرچہ حسین کا
مِرے اعصاب کو بوجھل نہ کر دے
محبت آپ کی پاگل نہ کر دے
یوں ہی فریاد ہم کرتے رہیں گے
کہ جب تک مسئلہ تُو حل نہ کر دے
کُچلتا جائے گا پیروں سے اپنے
وہ جب تک خاروں کو مخمل نہ کر دے
لوٹ آئی میں اس لیے گھر میں
دل یہ لگتا نہیں تھا دفتر میں
میں نے دیکھا تھا پہلی بار اسے
شام کے اک حسین منظر میں
دل کو چھوڑا یہ سوچ کر خالی
کیا اُگے گا زمینِ بنجر میں