روداد میرے مرنے کی آغاز سے کہنا
وہ رو نہ پڑے سُن کے اس انداز سے کہنا
کچھ پَل ہمیں تقریبِ محبت میں ملے تھے
ان کا نہ کہیں ذکر ہو ہمراز سے کہنا
ذروں میں ستاروں میں چراغوں کی لووں میں
ہم اس کے تھے اس کے ہی رہے ناز سے کہنا
اب ہمیں ترکِ تعلق کے نئے گہنے دے
اشک کو آنکھ میں حیران پڑا رہنے دے
ہم تِرے دل کے مہاجر ہیں ہمیں حوصلہ دے
آخری بار جو کہنا تھا وہ سب کہنے دے
فون بے کار ہے چپ چاپ پڑا رہتا ہے
ایک گھنٹی سی بلاتی ہے مگر رہنے دے