Showing posts with label شہناز پروین سحر. Show all posts
Showing posts with label شہناز پروین سحر. Show all posts

Friday, 4 September 2020

کوئی شفقت بھری سرکار نہیں ہے گھر میں

کوئی شفقت بھری سرکار نہیں ہے گھر میں
جب سے بابا کی وہ دستار نہیں ہے گھر میں
عمرکی بڑھتی تھکن سانس کی بیمار گھُٹن
ایک کمرہ بھی ہوا دار نہیں ہے گھر میں
دکھ سنائیں، کبھی گھبرائیں تو سر ٹکرائیں
اس طرح کی کوئی دیوار نہیں ہے گھر میں

بس کبھی دیکھی نہیں آنکھ کی لالی اس نے

مجھ سے لکنت ہوئی اور بات سنبھالی اس نے
بس کبھی دیکھی نہیں آنکھ کی لالی اس نے
وہ گلے ملتا ہے ملبوس بچا کر اپنا 
زندگی کیسی کلف دار بنا لی اس نے
اجنبی سمت میں پرواز تجسّس اس کا
دم بخود گھر سے الگ جھوک بسا لی اس نے

Monday, 24 August 2020

گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے

گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے
پھر مکان گرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
انگلیوں کی پوروں میں کرچیاں اترتی ہیں
کانچ کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر کیسے ڈھلتی ہے موت کیسے پلتی ہے
چار دن گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی
خود کو آتش دان میں رکھ کر بھول گئی
کچھ آنسو تو آنکھوں میں چھپ جاتے ہیں
کچھ آنسو مسکان میں رکھ کر بھول گئی
کمرے میں کچھ سائے ناچتے رہتے ہیں
سورج روشن دان میں رکھ کر بھول گئی

Sunday, 23 August 2020

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے
اب اس بستی میں گھر میرا نہیں
میں کس بارود میں بکھری پڑی ہوں
یہ دھڑ میرا ہے، سر میرا نہیں ہے
مجھے میرے حوالے کر گیا ہے
تو کیا ہے وہ اگر میرا نہیں ہے

معبود تجھ سے ایک جبِیں چاہیے مجھے

معبود تجھ سے ایک جبیں چاہیے مجھے
پھر اس کے بعد کچھ بھی نہیں چاہیے مجھے
تیرے جہاں پہ اپنا جہاں کیوں میں وار دوں
کوئی بہشت ہے، تو یہیں چاہیے مجھے
پرواز کیا کروں کسی بنجر فلک پہ میں
اڑنے کے واسطے بھی زمیں چاہیے مجھے

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں
چاند نکلا تو چاندنی ہی نہیں
بیچ جنگل میں راہ بھولی تھی
لوٹ کر گھر کبھی گئی ہی نہیں
حال اور ماضی ایک جیسے ہیں
وقت سے میری دوستی ہی نہیں

Saturday, 22 August 2020

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں
زرد پتوں کا دکھ سمجھتی ہوں
رفتگاں بھید اوڑھ لیتے ہیں
اپنے ابا کی قبر ڈھونڈتی ہوں
میرا بچپن بچھڑ گیا مجھ سے
اک سہیلی سے روٹھ بیٹھی ہوں

کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے

کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے
یوں عمر بھر کی قید سنا دی گئی مجھے
اڑتی رہی فلک پہ ستاروں کی اوڑھنی
سر سے بہت ہی دور رِدا دی گئی مجھے
اوپر تلے ہیں سنگِ حیات اور سنگِ مرگ
چکی کے دونوں پاٹ میں جا دی گئی مجھے

Thursday, 18 December 2014

خدا کی نظروں سے گر گئے جو

خدا کی نظروں سے گر گئے جو

مِرے وطن
میری بے بس اداس دھرتی
مِرے پشاور کے نونہال آج
اپنی ماؤں کی گود کو چھوڑ
تیری گودی میں چھپ گئے ہیں
وہ ڈر گئے ہیں

Saturday, 1 November 2014

روداد میرے مرنے کی آغاز سے کہنا

روداد میرے مرنے کی آغاز سے کہنا
وہ رو نہ پڑے سُن کے اس انداز سے کہنا
کچھ پَل ہمیں تقریبِ محبت میں ملے تھے
ان کا نہ کہیں ذکر ہو ہمراز سے کہنا
ذروں میں ستاروں میں چراغوں کی لووں میں
ہم اس کے تھے اس کے ہی رہے ناز سے کہنا

اب ہمیں ترک تعلق کے نئے گہنے دے

اب ہمیں ترکِ تعلق کے نئے گہنے دے
اشک کو آنکھ میں حیران پڑا رہنے دے
ہم تِرے دل کے مہاجر ہیں ہمیں حوصلہ دے
آخری بار جو کہنا تھا وہ سب کہنے دے
فون بے کار ہے چپ چاپ پڑا رہتا ہے
ایک گھنٹی سی بلاتی ہے مگر رہنے دے

سیکنڈ ہینڈ

سیکنڈ ہینڈ

دن بھر کی سانسوں کو مجھ سے
چھین لیا
پھر مجھے ہراساں چھوڑ گیا
آج کا دن بھی 
کل جیسا تھا

شہناز پروین سحر

ایک اور آخری دن

ایک اور آخری دن

ان پڑھ
جاہل
گھامڑ عورت
تیرے ساتھ اب ایک بھی پل
میں نہیں رہوں گا