عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی
خود کو آتش دان میں رکھ کر بھول گئی
کچھ آنسو تو آنکھوں میں چھپ جاتے ہیں
کچھ آنسو مسکان میں رکھ کر بھول گئی
کمرے میں کچھ سائے ناچتے رہتے ہیں
جلتی دھوپ میں چاند کا تحفہ کیا کرتی
شاید میں دالان میں رکھ کر بھول گئی
سورج چاند بھی جا کرلوٹ ہی آتے ہیں
عمر اسی امکان میں رکھ کر بھول گئی
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment