Monday, 24 August 2020

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی
خود کو آتش دان میں رکھ کر بھول گئی
کچھ آنسو تو آنکھوں میں چھپ جاتے ہیں
کچھ آنسو مسکان میں رکھ کر بھول گئی
کمرے میں کچھ سائے ناچتے رہتے ہیں
سورج روشن دان میں رکھ کر بھول گئی
جلتی دھوپ میں چاند کا تحفہ کیا کرتی
شاید میں دالان میں رکھ کر بھول گئی
سورج چاند بھی جا کرلوٹ ہی آتے ہیں
عمر اسی امکان میں رکھ کر بھول گئی

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment