گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے
پھر مکان گرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
انگلیوں کی پوروں میں کرچیاں اترتی ہیں
کانچ کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر کیسے ڈھلتی ہے موت کیسے پلتی ہے
شاخ کی ہتھیلی پر پھول مسکراتا ہے
پھول کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر بھر کے ساتھی جب راستے بدلتے ہیں
عمر کو گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
مصلحت کے پردے کی عمر کتنی ہوتی ہے
یہ نقاب اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ایک سر کی چادر ہو، اور پاؤں میں چپل
اپنے سج سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment