Showing posts with label معظم شجیع. Show all posts
Showing posts with label معظم شجیع. Show all posts

Monday, 24 August 2020

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی 
وہ بھی ہوئے ہیں انجمن آرا کبھی کبھی 
میں اور عرض شوق مِری کیا مجال ہے 
ہوتا ہے اس طرف سے اشارا کبھی کبھی 
راہِ طلب میں اور کوئی رہنما نہیں
دیتی ہیں لغزشیں ہی سہارا کبھی کبھی 

کس کے نغمے گونجتے ہیں زندگی کے ساز میں

کس کے نغمے گونجتے ہیں زندگی کے ساز میں
اک نئی آواز♯ شامل ہے مِری آواز♯ میں
میرے گھر میں چھا رہی تھی شام غم کی تیرگی
جب اجالا🌞 ہو رہا تھا جلوہ گاہِ ناز میں
میں اگر خاموش ہوں خاموش رہنے دیجیے
میری خاموشی سے کیا کیا حادثے ہیں راز میں

Saturday, 22 August 2020

سرد آہوں نے میرے زخموں کو آباد کیا

سرد آہوں نے میرے زخموں کو آباد کِیا
دل کی چوٹوں نے جو رہ رہ کے تجھے یاد کیا
مہربانی میرے صیاد کی دیکھے کوئی
جب خزاں آئی، مجھے قید سے آزاد کیا
محفلِ ناز سے لایا جو یہاں تک ان کو
تُو نے یہ کام عجب اے دلِ ناشاد کیا

ہر وہ ہنگامہ ناگہاں گزرا

ہر وہ ہنگامہ ناگہاں گزرا 
دو دلوں کے جو درمیاں گزرا 
تم کسی کے نہیں زمانے میں
ہم کو ایسا بھی اک گماں گزرا
جو محبت  میں ہم پہ گزرا ہے
تم پہ وہ وقت بھی کہاں گزرا

Saturday, 12 December 2015

اہل دل کے سوا کسے معلوم

اہلِ دل کے سوا کسے معلوم
درد خود ہے دوا کسے معلوم
شامِ فرقت وہ میرے پاس رہے
کون آیا گیا، کسے معلوم
ان سے پہلے ہوئے ہیں ہم رخصت
کب ہوئے وہ جدا کسے معلوم

درد فرقت کو جگا لیں تو چلے جائیے گا

درد فرقت کو جگا لیں تو چلے جائیے گا
زندگی دل کی بڑھا لیں تو چلے جائیے گا
دیکھیے بات سمجھنے کی ہے، کہنے کی نہیں
بات ست بات بنا لیں تو چلے جائیے گا
ہر گھڑی درد کا انداز بدل جاتا ہے
دو گھڑی دل کو سنبھالیں تو چلے جائیے گا

آتی ہے حال دل پہ ہنسی کم بہت ہی کم

آتی ہے حال دل پہ ہنسی کم بہت ہی کم
ملتی ہے زندگی میں خوشی کم بہت ہی کم
اب تک تو وہ زندگی کی ضرورت نہ بن سکی
وہ اک خلش جو دل میں رہی کم بہت ہی کم
آئینہ دیکھ کر جو وہ دیکھا کیے مجھے
ان سے مِری نگاہ ملی کم بہت ہی کم

ان کو غم کا آخری قصہ سنا کر رو دئیے

ان کو غم کا آخری قصہ سنا کر رو دئیے
ضبط کر کے مسکرائے، مسکرا کر رو دئیے
آج اپنی بے کسی کا ہو گیا ہم کو یقین
دِل کو دیکھا اور انہیں دل میں نہ پا کر رو دئیے
آ گئیں گزری ہوئی باتیں نظر کے سامنے
آنکھ اٹھا کر ان کو دیکھا، سر جھکا کر رو دئیے

شب ہجر وہ دمبدم یاد آئے

شبِ ہجر وہ دم بدم یاد آئے
بہت یاد آ کر بھی کم یاد آئے
اک ایسا بھی گزرا ہے فرقت میں‌ عالم
نہ تم یاد آئے نہ ہم یاد آئے
کرم پر فدا دیدہ و دل تھے لیکن
کرم سے زیادہ ستم یاد آئے

وہ جو مہمان بنے بیٹھے ہیں

وہ جو مہمان بنے بیٹھے ہیں
میرا ایمان بنے بیٹھے ہیں
کر کے رسوائے زمانہ مجھ کو
کتنے انجان بنے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو بنانے والے
کیوں پریشان بنے بیٹھے ہیں