وہ جو مہمان بنے بیٹھے ہیں
میرا ایمان بنے بیٹھے ہیں
کر کے رسوائے زمانہ مجھ کو
کتنے انجان بنے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو بنانے والے
دیکھ کر آئینے میں عکس اپنا
خود ہی حیران بنے بیٹھے ہیں
جو مِری جان ہیں میرا دل ہیں
وہ بھی انجان بنے بیٹھے ہیں
کل اسی گھر کے مکیں ہم تھے شجیعؔ
آج مہمان بنے بیٹھے ہیں
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment