Saturday, 12 December 2015

وہ جو مہمان بنے بیٹھے ہیں

وہ جو مہمان بنے بیٹھے ہیں
میرا ایمان بنے بیٹھے ہیں
کر کے رسوائے زمانہ مجھ کو
کتنے انجان بنے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو بنانے والے
کیوں پریشان بنے بیٹھے ہیں
دیکھ کر آئینے میں عکس اپنا
خود ہی حیران بنے بیٹھے ہیں
جو مِری جان ہیں میرا دل ہیں
وہ بھی انجان بنے بیٹھے ہیں
کل اسی گھر کے مکیں ہم تھے شجیعؔ
آج مہمان بنے بیٹھے ہیں

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment