To-Whom-it-may-concern
ہمیں کیا پڑی ہے
کہ سوچیں
یہ سورج جو دن رات
دھرتی کے پھیرے لیے جا رہا ہے
اسے راکھ کرنے کے چکر میں ہے
To-Whom-it-may-concern
ہمیں کیا پڑی ہے
کہ سوچیں
یہ سورج جو دن رات
دھرتی کے پھیرے لیے جا رہا ہے
اسے راکھ کرنے کے چکر میں ہے
اے انوکھے سخی
اے میرے کبریا
قلب و جاں ہیں گناہوں میں لتھڑے ہوئے
میرے عصیاں کا کوئی نہیں ہے شمار
مجھ پہ بابِ رحم کو نہ کر دینا بند
دھو دے اپنے کرم سے گناہوں کا گند
وبا کے دنوں میں
یہ ہم تم بڑے کم سمجھ ہیں
وبا کے دنوں میں بھُلائے ہوئے اور گمائے ہوئے کی پنہ ڈھونڈتے ہیں
شِکم سیر ہو کر
گناہوں میں کھو کر
مصلوں پہ اپنا خدا ڈھونڈتے ہیں
تیرگی میں اُجالنے پڑے دُکھ
دکھ ہے ہم کو بھی پالنے پڑے دکھ
تجھ سمندر کی خامشی کے سبب
چاندنی کو اُچھالنے پڑے دکھ
ہم نکالے گئے تھے جنت سے
لمحہ لمحہ سنبھالنے پڑے دکھ
بھوک
بھوک کافر کرے
تو زمیں کو وجودِ فلک بوجھ لگنے لگے
آسماں پر زمیں کے برابر کے دُکھ درد اُگنے لگیں
راستے، راہروؤں کو نگلنے لگیں
گنگناتی ہوں یادوں کی پُروائیاں
محبت زندگانی چاہتی ہے
فقیرن راجدھانی چاہتی ہے
تمہی ہم سے گریزاں ہو وگرنہ
وفا کب رائیگانی چاہتی ہے؟
مجھے تم حالِ دل مت لکھ کے بھیجو
سماعت کچھ زبانی چاہتی ہے