Showing posts with label یسریٰ طارق. Show all posts
Showing posts with label یسریٰ طارق. Show all posts

Monday, 24 January 2022

ہمیں کیا پڑی ہے کہ سوچیں

 To-Whom-it-may-concern


ہمیں کیا پڑی ہے

کہ سوچیں

یہ سورج جو دن رات 

دھرتی کے پھیرے لیے جا رہا ہے

اسے راکھ کرنے کے چکر میں ہے

Tuesday, 6 July 2021

اے انوکھے سخی اے میرے کبریا

 اے انوکھے سخی

اے میرے کبریا

قلب و جاں ہیں گناہوں میں لتھڑے ہوئے

میرے عصیاں کا کوئی نہیں ہے شمار

مجھ پہ بابِ رحم کو نہ کر دینا بند

دھو دے اپنے کرم سے گناہوں کا گند

وبا کے دنوں میں اپنا خدا ڈھونڈتے ہیں

 وبا کے دنوں میں


یہ ہم تم بڑے کم سمجھ ہیں

وبا کے دنوں میں بھُلائے ہوئے اور گمائے ہوئے کی پنہ ڈھونڈتے ہیں

شِکم سیر ہو کر

گناہوں میں کھو کر

مصلوں پہ اپنا خدا ڈھونڈتے ہیں

Monday, 5 July 2021

تیرگی میں اجالنے پڑے دکھ

 تیرگی میں اُجالنے پڑے دُکھ

دکھ ہے ہم کو بھی پالنے پڑے دکھ

تجھ سمندر کی خامشی کے سبب

چاندنی کو اُچھالنے پڑے دکھ

ہم نکالے گئے تھے جنت سے

لمحہ لمحہ سنبھالنے پڑے دکھ

Sunday, 4 July 2021

بھوک کافر کرے تو زمیں کو وجود فلک بوجھ لگنے لگے

 بھوک


بھوک کافر کرے

تو زمیں کو وجودِ فلک بوجھ لگنے لگے

آسماں پر زمیں کے برابر کے دُکھ درد اُگنے لگیں

راستے، راہروؤں کو نگلنے لگیں

گنگناتی ہوں یادوں کی پُروائیاں

محبت زندگانی چاہتی ہے

 محبت زندگانی چاہتی ہے

فقیرن راجدھانی چاہتی ہے

تمہی ہم سے گریزاں ہو وگرنہ

وفا کب رائیگانی چاہتی ہے؟

مجھے تم حالِ دل مت لکھ کے بھیجو

سماعت کچھ زبانی چاہتی ہے