تیرگی میں اُجالنے پڑے دُکھ
دکھ ہے ہم کو بھی پالنے پڑے دکھ
تجھ سمندر کی خامشی کے سبب
چاندنی کو اُچھالنے پڑے دکھ
ہم نکالے گئے تھے جنت سے
لمحہ لمحہ سنبھالنے پڑے دکھ
اشک تصویر سے نظر آئے
یوں مصور کو ڈالنے پڑے دکھ
تجھ خوشی سے ہمیں نوازا گیا
اور خوشی سے نکالنے پڑے دکھ
پیڑ کاٹا گیا تو گھر بھی گئے
ہم پرندوں کے آلنے پڑے دکھ
بے رِداؤں نے اُف تلک نہیں کی
آسماں کو سنبھالنے پڑے دکھ
یسریٰ طارق
No comments:
Post a Comment