تیری فُرقت کا غم نہیں ہے
یہ اذیت بھی کم نہیں ہے
نجات ممکن تھی دردِ جاں سے
چارہ سازوں میں دم نہیں ہے
مے کدے کا یہ خونی منظر
چشمِ ساقی تو نم نہیں ہے
وہ ہے، اپنے سِتم پہ نازاں
میری وحشت بھی کم نہیں ہے
اب نہ سنورے گا یہ مقدر
تیری زُلفوں کا خم نہیں ہے
اس کو آدم نہ کہیے، جس کو
نسلِ آدم کا غم نہیں ہے
میرے دشمن! یہ دیکھ لے تُو
سر سلامت ہے، خم نہیں ہے
کامران حیدر
No comments:
Post a Comment