بوجھ بڑھ جائے تو سامان نہ رہنے دینا
کچھ بھی ہو اس کو پریشان نہ رہنے دینا
شب جزیرے سے تِرا خواب کنارے آنا
اور مجھے بر سرِ اوسان نہ رہنے دینا
اتفاقاً کوئی پوچھے جو ہمارے بارے
اتنا اُلجھانا کہ آسان نہ رہنے دینا
دل دریچے میں سرِ شام ہمارے جیسا
آن بیٹھے تو یہ دالان نہ رہنے دینا
پھر جواں سالِ محبت کو بلانا اس پاس
اور پلٹ آنے کا امکان نہ رہنے دینا
رنگِ بیزاری تِری آنکھ میں گر دیکھ بھی لوں
دیکھ بھی لوں تو مِرا دھیان نہ رہنے دینا
درمیاں آتی تھی جو کارِ محبت میں کبھی
وہ جھجک جنگ کے دوران نہ رہنے دینا
تجمل کاظمی
No comments:
Post a Comment