Showing posts with label عذرا نقوی. Show all posts
Showing posts with label عذرا نقوی. Show all posts

Friday, 15 April 2022

میں اپنی جادو نگری کی جھلک دکھلاؤں تم کو

 جادو نگری


زندگی کی تلخیاں، ناکامیاں، ٹوٹے ہوئے

خوابوں کی کرچیں

روز وشب کو مضمحل کردیں

تو میرے ساتھ آؤ

ذرا ٹہرو

Tuesday, 5 April 2022

جھوٹ کے ہاتھ بہت لمبے ہیں

 نئی کہانی 


یہ ہی بچپن سے مِری ماں مجھے سمجھاتی تھیں

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ہیں

روز سکول میں خوشخط یہی استانی بھی لکھواتی تھیں

جیت سچ کی ہی ہوا کرتی ہے

دادا ابا کے سنائے ہوئے ہر قصے میں

Thursday, 29 April 2021

کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی

 کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی

کہ اب تو دل کے سناٹے سے بھی وحشت نہیں ہوتی

زمانے بھر کے غم اپنا لیے ہیں خود فریبی میں

خود اپنے غم سے ملنے کی ہمیں فرصت نہیں ہوتی

گزر جاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں

بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی

Thursday, 18 March 2021

ائیرپورٹ اسٹیشن سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ

 ائیرپورٹ، اسٹیشن، سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ

جانے کون سے سُکھ کی خاطر پھرتے مارے مارے لوگ

شام گئے یہ منظر ہم نے ملکوں ملکوں دیکھا ہے

گھر لوٹیں بوجھل قدموں سے بُجھے ہوئے انگارے لوگ

پُر نم آنکھوں، بوجھل دل سے کتنی بار وِداعی لی

کتنا بوجھ لیے پھرتے ہیں ہم جیسے بنجارے لوگ

Monday, 15 March 2021

اعتبار رشتوں کا سائبان رہنے دو

 اعتبار رشتوں کا سائبان رہنے دو

مہربان دعاؤں میں خاندان رہنے دو

مضمحل سے بام و در خستہ حال دیواریں

باپ کی نشانی ہے وہ مکان رہنے دو

معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو 

مہرباں دعاؤں میں خاندان  رہنے  دو

Saturday, 13 March 2021

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں

 دل کو ہر سُرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں

ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں

حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر

ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں

رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال

صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں

Friday, 12 March 2021

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

 کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں

عجیب موسمِ دل ہے عجیب مجبوری

نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں

پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر 

سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں

Wednesday, 10 March 2021

داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا

 داستانِ زندگی لکھتے، مگر رہنے دیا

اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا

کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر

زیر پا اک رہ گزر تھی، رہ گزر رہنے دیا

دل کے ہر موسم نے بخشی دولتِ احساس و درد

صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا

Sunday, 15 November 2020

کوئی جینے کا جواز اور نکالا جائے

 کوئی جینے کا جواز اور نکالا جائے

زندگی تجھ کو کس انداز سے ڈھالا جائے

جب بھی جینے کی لگن ماند پڑے بجھنے لگے

راکھ سے کوئی شرر ڈھونڈ نکالا جائے

لوگ راضی بہ رضا ہو کے جھکا دیتے ہیں سر

اس کا الزام نہ تقدیر پہ ڈالا جائے