جادو نگری
زندگی کی تلخیاں، ناکامیاں، ٹوٹے ہوئے
خوابوں کی کرچیں
روز وشب کو مضمحل کردیں
تو میرے ساتھ آؤ
ذرا ٹہرو
جادو نگری
زندگی کی تلخیاں، ناکامیاں، ٹوٹے ہوئے
خوابوں کی کرچیں
روز وشب کو مضمحل کردیں
تو میرے ساتھ آؤ
ذرا ٹہرو
نئی کہانی
یہ ہی بچپن سے مِری ماں مجھے سمجھاتی تھیں
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ہیں
روز سکول میں خوشخط یہی استانی بھی لکھواتی تھیں
جیت سچ کی ہی ہوا کرتی ہے
دادا ابا کے سنائے ہوئے ہر قصے میں
کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی
کہ اب تو دل کے سناٹے سے بھی وحشت نہیں ہوتی
زمانے بھر کے غم اپنا لیے ہیں خود فریبی میں
خود اپنے غم سے ملنے کی ہمیں فرصت نہیں ہوتی
گزر جاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں
بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی
ائیرپورٹ، اسٹیشن، سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ
جانے کون سے سُکھ کی خاطر پھرتے مارے مارے لوگ
شام گئے یہ منظر ہم نے ملکوں ملکوں دیکھا ہے
گھر لوٹیں بوجھل قدموں سے بُجھے ہوئے انگارے لوگ
پُر نم آنکھوں، بوجھل دل سے کتنی بار وِداعی لی
کتنا بوجھ لیے پھرتے ہیں ہم جیسے بنجارے لوگ
اعتبار رشتوں کا سائبان رہنے دو
مہربان دعاؤں میں خاندان رہنے دو
مضمحل سے بام و در خستہ حال دیواریں
باپ کی نشانی ہے وہ مکان رہنے دو
معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو
مہرباں دعاؤں میں خاندان رہنے دو
دل کو ہر سُرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں
ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں
حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر
ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں
رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال
صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں
کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں
میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں
عجیب موسمِ دل ہے عجیب مجبوری
نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں
پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر
سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں
داستانِ زندگی لکھتے، مگر رہنے دیا
اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا
کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر
زیر پا اک رہ گزر تھی، رہ گزر رہنے دیا
دل کے ہر موسم نے بخشی دولتِ احساس و درد
صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا
کوئی جینے کا جواز اور نکالا جائے
زندگی تجھ کو کس انداز سے ڈھالا جائے
جب بھی جینے کی لگن ماند پڑے بجھنے لگے
راکھ سے کوئی شرر ڈھونڈ نکالا جائے
لوگ راضی بہ رضا ہو کے جھکا دیتے ہیں سر
اس کا الزام نہ تقدیر پہ ڈالا جائے