اعتبار رشتوں کا سائبان رہنے دو
مہربان دعاؤں میں خاندان رہنے دو
مضمحل سے بام و در خستہ حال دیواریں
باپ کی نشانی ہے وہ مکان رہنے دو
معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو
مہرباں دعاؤں میں خاندان رہنے دو
پھیلتے ہوئے شہرو اپنی وحشتیں روکو
میرے گھر کے آنگن پر آسمان رہنے دو
آنے والی نسلیں خود حل تلاش کر لیں گی
آج کے مسائل کو خوش گمان رہنے دو
الجھے الجھے ریشم کی ڈور سے بندھے رشتے
ہر گھڑی محبت کا امتحان رہنے دو
کیا بہت ضروری ہے سارے بات کہہ ڈالیں
جگنوؤں سے کچھ لمحے درمیان رہنے دو
عارضی سہی لیکن نقش چھوڑ جائے گا
بے خودی کے موسم کو مہربان رہنے دو
عذرا نقوی
No comments:
Post a Comment