Monday, 15 March 2021

صرف خود کو خدا نہیں کہتا

 صرف خود کو خدا نہیں کہتا

مولوی اور کیا نہیں کہتا

آئینہ دیکھ کر نکلتا ہوں

سو کسی کو برا نہیں کہتا

ہے اندھیرا بھرا ہوا اس میں

میں خلا کو خلا نہیں کہتا

تُو یہی سوچتا ہوا مر جا

کیا میں کہتا ہوں، کیا نہیں کہتا

ڈر رہا ہے تجھے نہ کچھ کہہ دوں

یار! تُو لوٹ آ، نہیں کہتا

حل کریں ہم اگر تو ہو جائے

میں اسے مسئلہ نہیں کہتا


شعیب کیانی

No comments:

Post a Comment