صرف خود کو خدا نہیں کہتا
مولوی اور کیا نہیں کہتا
آئینہ دیکھ کر نکلتا ہوں
سو کسی کو برا نہیں کہتا
ہے اندھیرا بھرا ہوا اس میں
میں خلا کو خلا نہیں کہتا
تُو یہی سوچتا ہوا مر جا
کیا میں کہتا ہوں، کیا نہیں کہتا
ڈر رہا ہے تجھے نہ کچھ کہہ دوں
یار! تُو لوٹ آ، نہیں کہتا
حل کریں ہم اگر تو ہو جائے
میں اسے مسئلہ نہیں کہتا
شعیب کیانی
No comments:
Post a Comment