کسی نے چھوڑ دی تھی شاعری
کسی نے زنگ کھاتے آئینے کو توڑ ڈالا
مسکرایا
کسی ویراں جزیرے پر کسی کو جلپری نے اک سمندری پھول مارا تھا
سمندری پھول جو پتھر پہ اُگتا ہے
کسان اکیس سالوں میں جواں بیٹی کے کانوں پر
فقط اک تولہ چاندی ہی اُگا پایا
کھلاڑی آخری رن سے ذرا پہلے کسی کی یاد میں ہنستا ہوا میدان سے باہر نکل آیا
کسی کے پاؤں جب تُو نے کہا تھا خوبصورت ہیں
انہیں تکتا ہوا اک شخص کُبڑا ہو گیا ہے
کوئی چلتے ہوئے دیوار سے ٹکرا گیا ہے
یا کسی کے پیپ بنتے زخم سے
کسی کی یاد میں آنکھیں کئی رنگوں کی کافر ہو گئی ہے
تجھے کیا علم ہے کہ کیا ہو رہا ہے
تجھے کیا فکر کہ مصری شہزادہ اک ترے دیدار کو کتنی قطاریں توڑ کر آیا
تجھے کیا فکر کہ مہتاب تیری چھت پہ ٹھہرا ہے یا اُلّو
تجھے کیا فکر کہ شاعر نے نظمیں چھوڑ دی ہیں
شہباز گوہر
No comments:
Post a Comment