دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے
شب مرحوم کے خوابوں سا بکھر جاتا ہے
کوئی پیمانِ وفا صبر سے بھر جاتا ہے
چار و ناچار کی دہشت میں گزر جاتا ہے
دھانی آوازوں کے سر تال میں بہتے بہتے
رقص صحرائی کے وہ بن میں اتر جاتا ہے
دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے
شب مرحوم کے خوابوں سا بکھر جاتا ہے
کوئی پیمانِ وفا صبر سے بھر جاتا ہے
چار و ناچار کی دہشت میں گزر جاتا ہے
دھانی آوازوں کے سر تال میں بہتے بہتے
رقص صحرائی کے وہ بن میں اتر جاتا ہے
آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا
درد کا رشتہ اپنی آن نہیں کھوتا
بستی کے حسّاس دلوں کو چُبھتا ہے
سنّاٹا جب ساری رات نہیں ہوتا
من نگری میں دھوم دھڑکا رہتا ہے
میرا میں جب میرے ساتھ نہیں ہوتا
غالب ہے مِرا حوصلہ، مغلوب نہیں ہوں
ہے جرم ضعیفی، پہ میں محجوب نہیں ہوں
ہیں سخت چٹانوں کی طر ح میرے ارادے
تم گھول کے پی جاؤ وہ مشروب نہیں ہوں
ہوں بحرِ انا حسن کی امواج میں غلطاں
لذت کے سرابوں سے میں منصوب نہیں ہوں
آئیے آسماں کی اور چلیں
ساتھ لے کر زمیں کا شور چلیں
چاند الفت کا استعارہ ہے
جس کی جانب سبھی چکور چلیں
یوں دبے پاؤں آئی تیری یاد
جیسے چپکے سے شب میں چور چلیں
احساس نا رسائی سے جس دم اُداس تھا
شاید وہ اس گھڑی بھی مِرے آس پاس تھا
محفل میں پُھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا
تنہائی میں مِلا تو بہت ہی اداس تھا
ہر زخم کُہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا
وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا