Showing posts with label حنیف ترین. Show all posts
Showing posts with label حنیف ترین. Show all posts

Friday, 30 September 2022

دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے

 دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے

شب مرحوم کے خوابوں سا بکھر جاتا ہے

کوئی پیمانِ وفا صبر سے بھر جاتا ہے

چار و ناچار کی دہشت میں گزر جاتا ہے

دھانی آوازوں کے سر تال میں بہتے بہتے

رقص صحرائی کے وہ بن میں اتر جاتا ہے

Thursday, 29 September 2022

آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

 آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

درد کا رشتہ اپنی آن نہیں کھوتا

بستی کے حسّاس دلوں کو چُبھتا ہے

سنّاٹا جب ساری رات نہیں ہوتا

من نگری میں دھوم دھڑکا رہتا ہے

میرا میں جب میرے ساتھ نہیں ہوتا

Friday, 8 April 2022

غالب ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں

 غالب ہے مِرا حوصلہ، مغلوب نہیں ہوں

ہے جرم ضعیفی، پہ میں محجوب نہیں ہوں

ہیں سخت چٹانوں کی طر ح میرے ارادے

تم گھول کے پی جاؤ وہ مشروب نہیں ہوں

ہوں بحرِ انا حسن کی امواج میں غلطاں

لذت کے سرابوں سے میں منصوب نہیں ہوں

Tuesday, 23 November 2021

آئیے آسماں کی اور چلیں

آئیے آسماں کی اور چلیں

ساتھ لے کر زمیں کا شور چلیں

چاند الفت کا استعارہ ہے

جس کی جانب سبھی چکور چلیں

یوں دبے پاؤں آئی تیری یاد

جیسے چپکے سے شب میں چور چلیں

Friday, 10 September 2021

احساس نا رسائی سے جس دم اداس تھا

احساس نا رسائی سے جس دم اُداس تھا

شاید وہ اس گھڑی بھی مِرے آس پاس تھا

محفل میں پُھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا

تنہائی میں مِلا تو بہت ہی اداس تھا

ہر زخم کُہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا

وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا