Friday, 8 April 2022

غالب ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں

 غالب ہے مِرا حوصلہ، مغلوب نہیں ہوں

ہے جرم ضعیفی، پہ میں محجوب نہیں ہوں

ہیں سخت چٹانوں کی طر ح میرے ارادے

تم گھول کے پی جاؤ وہ مشروب نہیں ہوں

ہوں بحرِ انا حسن کی امواج میں غلطاں

لذت کے سرابوں سے میں منصوب نہیں ہوں

لوٹے ہیں مزے سکر کے بھی خود میں اتر کر

ہُو حق، میں جو کھویا ہو وہ مجذوب نہیں ہوں

طالب نئے خوابوں کا رہا ہوں میں ہمیشہ

میں کہنہ روایات کو مطلوب نہیں ہوں

کل جس کی مؤرخ نئی تار یخ لکھے گا

کیا وہ میں حنیف آج کا مکتوب نہیں ہوں


حنیف ترین

No comments:

Post a Comment