Friday, 8 April 2022

حقیقتوں سے پرے واہمے کو کھینچتا ہے

 حقیقتوں سے پرے، واہمے کو کھینچتا ہے

مِرا دماغ فقط وسوسے کو کھینچتا ہے

کسی بھی شے کو جہاں میں اکیلے چین نہیں

ہر ایک جسم کسی دوسرے کو کھینچتا ہے

میں چاہتا ہوں کہ ٹوٹے نہ پیار کی ڈوری

سو ڈھیل دیتا ہوں جب وہ سرے کو کھینچتا ہے

میں بار بار پلٹتا ہوں زندگی کی طرف

مگر یہ عشق مجھے مارنے کو کھینچتا ہے

سفر کو چھوڑ کے سب لوگ، سننے لگتے ہیں

کسی کا گیت ہر اک قافلے کو کھینچتا ہے

ہماری بات کہانی کو طول دیتی ہے

ہمارا ذکر ہر اک واقعے کو کھینچتا ہے


دانش علی

No comments:

Post a Comment