Friday, 8 April 2022

تکبر کا سفینہ اے ستمگر ڈوب جاتا ہے

 تکبر کا سفینہ اے ستمگر ڈوب جاتا ہے

انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے

سدا ہے سرفرازی خاکساری کو زمانے میں

کہ تنکا تیرتا رہتا ہے پتھر ڈوب جاتا ہے

سمندر کی تہوں سے لوگ موتی ڈھونڈ لاتے ہیں

کوئی بحر تلاطم میں اتر کر ڈوب جاتا ہے

سفر راہِ محبت کا نہیں آساں مِرے ہمدم

یہ ایسا بحر ہے جس میں شناور ڈوب جاتا ہے

تظلم کی حکومت دیر تک رہتی نہیں قائم

لہو میں اپنے ہی اک دن ستمگر ڈوب جاتا ہے

کبھی غفلت میں مت رہنا کہ اکثر ہوتا ہے ایسا

سفینہ شوق کا ساحل سے لگ کر ڈوب جاتا ہے

غزل ہوتی ہے جب تخلیق تو اے نصر اس لمحے

خیالوں کے سمندر میں سخنور ڈوب جاتا ہے


نصراللہ نصر

No comments:

Post a Comment