Showing posts with label جیلانی کامران. Show all posts
Showing posts with label جیلانی کامران. Show all posts

Thursday, 17 August 2023

ترے درختوں کی ٹہنیوں پر بہار اترے

 تِرے درختوں کی ٹہنیوں پر بہار اترے

تِری گزرگاہیں نیک راہوں کی منزلیں ہوں

مِرا زمانہ نئے نئے موسموں کی خوشبو

تِرے شب و روز کی مہک ہو

زمین پر جب بھی رات پھیلے

کرن جو ظلمت کو روشنی دے تِری کرن ہو

Monday, 28 March 2022

بے ثبات کی دنیا موسموں میں اتری ہے

 بے ثبات کی دنیا موسموں میں اتری ہے

پھول بن کے آئی ہے

گلشنوں میں اتری ہے

آنسوؤں میں اتری ہے

دل میں کچھ برس جی کر آنگنوں میں اتری ہے

چل دئیے خطا بن کر

Sunday, 27 March 2022

پیغام ہوا لائی ہے نہ جانے کدھر سے

 پیغام


پیغام ہوا لائی ہے نہ جانے کدھر سے

پتوں پہ ابھر آئی ہے تحریر کدھر سے

جو دیکھی ہے لائی ہے وہ تصویر کدھر سے

اک راہ پہ وہ آیا ہے اک لمبے سفر سے

محمل میں وہ بے خواب ہے عالم کی خبر سے

کیا دیکھیے، کیا شکل ہوئی زیر و زبر سے

Tuesday, 22 March 2022

کون سے باغ میں جا کر ہو آئے

 کون سا باغ


کون سے باغ میں جا کر ہو آئے

دل کی ہر بات سنا کر ہو آئے

ایک ساعت کو جہاں دیکھا کئی چہرے تھے

خوش نما بزم میں ہر ایک طرف

پھول کے ادھ کھلتے ہوئے سہرے تھے

Monday, 21 March 2022

قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے

 قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے

ہمارے مقدر کا انساں

درختوں نے اپنے کئی سارے پژمردہ پتے

ہواؤں کے گھر سے بلائے ہیں

تھکے ہارے رہرو پہ سایہ کریں

اس کی خاطر شکستہ دلوں کا کوئی گیت

Saturday, 19 March 2022

دیکھ وہ پھول ہے جس پر تتلی ہے

 ننھے


دیکھ وہ پھول ہے جس پر تتلی ہے

اپنے گھر سے تجھ کو دیکھنے نکلی ہے

پھول سے وہ خوشبو کی مہک بنائے گی

پھر وہ خوش خوش

تجھ سے ملنے آئے گی

Thursday, 17 March 2022

آؤ شبنم کے پانی میں جھانکیں

 آؤ

شبنم کے پانی میں جھانکیں

ہواؤں کے اڑتے ہوئے نرم جھونکوں سے کھیلیں

فضاؤں میں بکھرے ہوئے خواب ڈھونڈیں

جو بچپن میں ہم سے

زمانے نے چھینے تھے 

سردی گئی ہے بہار آ رہی ہے

 بہار آ رہی ہے


ہمارے مکانوں سے اوپر سے کونجیں

جنوبی علاقے سے آتی ہوئی چاند تارا بناتی ہوئی

آج گزریں گی ان کے گزرنے

مسافت میں روپوش ہونے سے ہم جان لیں گے

کڑاکے کی سردی گئی ہے بہار آ رہی ہے

Monday, 14 March 2022

کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا

 آخری رائے


کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا

بہت خوش ہوا جیسے گہرے سمندر

غضب ناکیوں میں اچھلتے ہیں یا آسماں پر فرشتے

قبول عبادت پہ مسرور ہوتے ہیں

اس نے کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا

Sunday, 13 March 2022

تیس برس میں چاند اور سورج اور زمانے دیکھے

 بوڑھا استاد


تیس برس میں چاند اور سورج 

اور زمانے دیکھے

دنیا کی محراب میں چھپ کر

آڑھے ترچھے، الٹے سیدھے

اور افسانے دیکھ رہے ہیں

Saturday, 12 March 2022

مرا مقدر تری تمنا سے خوشنما ہے

 کبھی اگر تم زمیں سے گزرو، زمیں جو ہم سب کی سلطنت ہے

تو جس طرف اک کلی کے مہرے پہ چاندنی اپنا نام خود ہے

وہاں ذرا دیر کے لیے اپنی عمر کی رفت و بود روکو

زمیں کو لمحوں کی بادشاہت میں دیکھنا چاہو

اس طریقہ سے آرزوؤں کے ساتھ دیکھو

کہ جس طرح لوگ اپنے محبوب کے بدن کو

Tuesday, 7 September 2021

میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہے

 قسمت کا پڑھنے والے


میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہے

عمر کے اوپر برق کا گہرا سایہ کیا ہے

کون خفا ہے

راہ کا بوڑھا پیڑ جھکا ہے چڑیاں ہیں چپ چاپ

آتی جاتی رُت کے بدلے گرد کی گہری چھاپ