تِرے درختوں کی ٹہنیوں پر بہار اترے
تِری گزرگاہیں نیک راہوں کی منزلیں ہوں
مِرا زمانہ نئے نئے موسموں کی خوشبو
تِرے شب و روز کی مہک ہو
زمین پر جب بھی رات پھیلے
کرن جو ظلمت کو روشنی دے تِری کرن ہو
تِرے درختوں کی ٹہنیوں پر بہار اترے
تِری گزرگاہیں نیک راہوں کی منزلیں ہوں
مِرا زمانہ نئے نئے موسموں کی خوشبو
تِرے شب و روز کی مہک ہو
زمین پر جب بھی رات پھیلے
کرن جو ظلمت کو روشنی دے تِری کرن ہو
بے ثبات کی دنیا موسموں میں اتری ہے
پھول بن کے آئی ہے
گلشنوں میں اتری ہے
آنسوؤں میں اتری ہے
دل میں کچھ برس جی کر آنگنوں میں اتری ہے
چل دئیے خطا بن کر
پیغام
پیغام ہوا لائی ہے نہ جانے کدھر سے
پتوں پہ ابھر آئی ہے تحریر کدھر سے
جو دیکھی ہے لائی ہے وہ تصویر کدھر سے
اک راہ پہ وہ آیا ہے اک لمبے سفر سے
محمل میں وہ بے خواب ہے عالم کی خبر سے
کیا دیکھیے، کیا شکل ہوئی زیر و زبر سے
کون سا باغ
کون سے باغ میں جا کر ہو آئے
دل کی ہر بات سنا کر ہو آئے
ایک ساعت کو جہاں دیکھا کئی چہرے تھے
خوش نما بزم میں ہر ایک طرف
پھول کے ادھ کھلتے ہوئے سہرے تھے
قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے
ہمارے مقدر کا انساں
درختوں نے اپنے کئی سارے پژمردہ پتے
ہواؤں کے گھر سے بلائے ہیں
تھکے ہارے رہرو پہ سایہ کریں
اس کی خاطر شکستہ دلوں کا کوئی گیت
ننھے
دیکھ وہ پھول ہے جس پر تتلی ہے
اپنے گھر سے تجھ کو دیکھنے نکلی ہے
پھول سے وہ خوشبو کی مہک بنائے گی
پھر وہ خوش خوش
تجھ سے ملنے آئے گی
آؤ
شبنم کے پانی میں جھانکیں
ہواؤں کے اڑتے ہوئے نرم جھونکوں سے کھیلیں
فضاؤں میں بکھرے ہوئے خواب ڈھونڈیں
جو بچپن میں ہم سے
زمانے نے چھینے تھے
بہار آ رہی ہے
ہمارے مکانوں سے اوپر سے کونجیں
جنوبی علاقے سے آتی ہوئی چاند تارا بناتی ہوئی
آج گزریں گی ان کے گزرنے
مسافت میں روپوش ہونے سے ہم جان لیں گے
کڑاکے کی سردی گئی ہے بہار آ رہی ہے
آخری رائے
کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا
بہت خوش ہوا جیسے گہرے سمندر
غضب ناکیوں میں اچھلتے ہیں یا آسماں پر فرشتے
قبول عبادت پہ مسرور ہوتے ہیں
اس نے کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا
بوڑھا استاد
تیس برس میں چاند اور سورج
اور زمانے دیکھے
دنیا کی محراب میں چھپ کر
آڑھے ترچھے، الٹے سیدھے
اور افسانے دیکھ رہے ہیں
کبھی اگر تم زمیں سے گزرو، زمیں جو ہم سب کی سلطنت ہے
تو جس طرف اک کلی کے مہرے پہ چاندنی اپنا نام خود ہے
وہاں ذرا دیر کے لیے اپنی عمر کی رفت و بود روکو
زمیں کو لمحوں کی بادشاہت میں دیکھنا چاہو
اس طریقہ سے آرزوؤں کے ساتھ دیکھو
کہ جس طرح لوگ اپنے محبوب کے بدن کو
قسمت کا پڑھنے والے
میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہے
عمر کے اوپر برق کا گہرا سایہ کیا ہے
کون خفا ہے
راہ کا بوڑھا پیڑ جھکا ہے چڑیاں ہیں چپ چاپ
آتی جاتی رُت کے بدلے گرد کی گہری چھاپ