Tuesday, 7 September 2021

میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہے

 قسمت کا پڑھنے والے


میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہے

عمر کے اوپر برق کا گہرا سایہ کیا ہے

کون خفا ہے

راہ کا بوڑھا پیڑ جھکا ہے چڑیاں ہیں چپ چاپ

آتی جاتی رُت کے بدلے گرد کی گہری چھاپ

گرد کے پیچھے آنے والے دور کی دھیمی تھاپ

رستہ کیا ہے، منزل کیا ہے

میرے ساتھ سفر پر آتے جاتے لوگو محشر کیا ہے

ماضی حال کا بدلا بدلا منظر کیا ہے

میں اور تُو کیا چیز ہیں تنکے پتے ایک نشان

عکس کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ظاہر میں انسان

کب کے ڈھونڈ رہے ہیں ہم سب اپنا نخلستان

ناقہ کیا ہے، محمل کیا ہے

شہر سے آتے جاتے لوگو دیکھو راہ سے کون گیا ہے

جلتے کاغذ کی خوشبو میں غرق فضا ہے

چاروں سمت سے لوگ بڑھے ہیں اونچے شہر کے پاس

آج اندھیری رات میں اپنا کون ہے راہ شناس

خواب کی ہر تعبیر میں گم ہے اچھی شے کی آس

دن کیا شے ہے، سایہ کیا ہے

گھٹتے بڑھتے چاند کے اندر دنیا کیا ہے

فرش پہ گر کر دل کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے


جیلانی کامران

No comments:

Post a Comment