شباب رنگ، دھلی چاندنی میں آئے ہوئے
ستارے شب کے جو نکلے تو مسکرائے ہوئے
تمام عمر شبِ ہجر کے ستائے ہوئے
ہمارے سجدے ہیں تجھ کو خدا بنائے ہوئے
یہ اور بات کہ معبودیت قبول نہیں
یہی تو فکر ہے مجھ کو ازل سے کھائے ہوئے
شباب رنگ، دھلی چاندنی میں آئے ہوئے
ستارے شب کے جو نکلے تو مسکرائے ہوئے
تمام عمر شبِ ہجر کے ستائے ہوئے
ہمارے سجدے ہیں تجھ کو خدا بنائے ہوئے
یہ اور بات کہ معبودیت قبول نہیں
یہی تو فکر ہے مجھ کو ازل سے کھائے ہوئے
اداسی ہر طرف چھائی ہوئی ہے
مِرا دل بھی بہت ٹوٹا ہوا ہے
مجھے معلوم ہے مجبوریاں ہیں
تمہارا ساتھ جو چھوٹا ہوا ہے
وہی اک خواب تھا سب کچھ ہمارا
وہی اک خواب ہی جھوٹا ہوا ہے
شب کے ٹوٹے ہوئے تارو یہ بتاؤ مجھ کو
نیند کس راہ پہ ہے آج کی شب میرے سوا
دھڑکنیں مات ہوئیں،۔ دل مِرا سُونا سُونا
روح بے روح بہت، کون یہاں تیرے سوا
شب کے رستوں پہ کدھرجاؤں، مِرا کوئی نہیں
ہر طرف گھور اندھیرا ہے، یہاں میرے سوا
دکھ سہنے کا گر اور ستمگر کا ستم اور
ہم جور پرستوں کے ہیں غم اور ستم اور
کچھ ایسے بھرے بیٹھے ہیں وہ ہم سے ستمگر
تیور ہیں اگر اور،۔ تو انداز ستم اور
ڈھونڈو گے اگر آپ تو ملنے کے نہیں ہم
محفل کے ستم اور، شبِ غم کے ستم اور
جو میرے نبض کو دیکھو مزاج کو سمجھو
چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے
ستمگروں نے محبت کو کھیل سمجھا تھا
انہیں پتہ ہی نہیں کون کس کے آس پہ ہے
وہ خیمہ گاہ کے پیچھے جو آگ بھڑکی تھی
وہیں سے پچھلی طرف میرا گھر بھی راس پہ ہے