Showing posts with label تقی حسن. Show all posts
Showing posts with label تقی حسن. Show all posts

Sunday, 6 March 2022

شباب رنگ دھلی چاندنی میں آئے ہوئے

 شباب رنگ، دھلی چاندنی میں آئے ہوئے

ستارے شب کے جو نکلے تو مسکرائے ہوئے

تمام عمر شبِ ہجر کے ستائے ہوئے

ہمارے سجدے ہیں تجھ کو خدا بنائے ہوئے

یہ اور بات کہ معبودیت قبول نہیں

یہی تو فکر ہے مجھ کو ازل سے کھائے ہوئے

Sunday, 27 February 2022

مرا دل بھی بہت ٹوٹا ہوا ہے

 اداسی ہر طرف چھائی ہوئی ہے

مِرا دل بھی بہت ٹوٹا ہوا ہے

مجھے معلوم ہے مجبوریاں ہیں

تمہارا ساتھ جو چھوٹا ہوا ہے

وہی اک خواب تھا سب کچھ ہمارا

وہی اک خواب ہی جھوٹا ہوا ہے

Wednesday, 23 February 2022

شب کے ٹوٹے ہوئے تارو یہ بتاؤ مجھ کو

 شب کے ٹوٹے ہوئے تارو یہ بتاؤ مجھ کو

نیند کس راہ پہ ہے آج کی شب میرے سوا

دھڑکنیں مات ہوئیں،۔ دل مِرا سُونا سُونا

روح بے روح بہت، کون یہاں تیرے سوا

شب کے رستوں پہ کدھرجاؤں، مِرا کوئی نہیں

ہر طرف گھور اندھیرا ہے، یہاں میرے سوا

Tuesday, 22 February 2022

دکھ سہنے کا گر اور ستمگر کا ستم اور

 دکھ سہنے کا گر اور ستمگر کا ستم اور

ہم جور پرستوں کے ہیں غم اور ستم اور

کچھ ایسے بھرے بیٹھے ہیں وہ ہم سے ستمگر

تیور ہیں اگر اور،۔ تو انداز ستم اور

ڈھونڈو گے اگر آپ تو ملنے کے نہیں ہم

محفل کے ستم اور، شبِ غم کے ستم اور

Monday, 21 February 2022

چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے

 جو میرے نبض کو دیکھو مزاج کو سمجھو

چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے

ستمگروں نے محبت کو کھیل سمجھا تھا

انہیں پتہ ہی نہیں کون کس کے آس پہ ہے

وہ خیمہ گاہ کے پیچھے جو آگ بھڑکی تھی

وہیں سے پچھلی طرف میرا گھر بھی راس پہ ہے