شباب رنگ، دھلی چاندنی میں آئے ہوئے
ستارے شب کے جو نکلے تو مسکرائے ہوئے
تمام عمر شبِ ہجر کے ستائے ہوئے
ہمارے سجدے ہیں تجھ کو خدا بنائے ہوئے
یہ اور بات کہ معبودیت قبول نہیں
یہی تو فکر ہے مجھ کو ازل سے کھائے ہوئے
شریک جسم نہیں، جاں بھی نہیں، روح بھی نہیں
یہ ایک باغ میں کیسے ہیں گل کھلائے ہوئے
یہ جتنے گھاؤ ملے ہیں محبتوں کے طفیل
یہ ظرف اپنا ہے ہر زخم جاں چھپائے ہوئے
تمام عمر کچوکے خجل کے سہتا رہا
یہ آنکھیں کتنے سمندر کو ہیں چھپائے ہوئے
شریر، شعلہ صفت ہیں چمن کے گجرارے
گلاب پھول سے چہرے، کمہلائے ہوئے
ہمارے بعد صبح و شام کے مناظر میں
ہم ہوں گے قبر کے اندر بھی منہ چھپائے ہوئے
بہت قلیل تھے رشتے بھی دوستی کے تقی
وہ اک زمانہ ہے گزرا کے مسکرائے ہوئے
تقی حسن
No comments:
Post a Comment