Showing posts with label سعدیہ کوکب. Show all posts
Showing posts with label سعدیہ کوکب. Show all posts

Friday, 10 September 2021

کبھی جب فون کی سکرین پر نمبر تمہارا جگمگاتا ہے

 کبھی جب فون کی سکرین پر

نمبر تمہارا جگمگاتا ہے

اور اک مخصوص سی گھنٹی

سماعت کے دریچوں کو

ذرا سا کھٹکھٹاتی ہے

مِرے دل کے نہاں خانے میں

Sunday, 1 August 2021

دل ہے کہ جانے کیوں یہ تری آرزو کرے

 دل ہے کہ جانے کیوں یہ تِری آرزو کرے

جب تُو نہ سامنے ہو تری گفتگو کرے

اک تُو کہ آسماں کی بلندی سے بھی بلند

اک یہ زمیں پہ رہ کے تِری جستجو کرے

ممکن نہیں ہے تجھ سے ملاقات زندگی

تُو کون ہے جو پھر بھی تِری آرزو کرے

Monday, 7 June 2021

مسیحائی کیسی چلی اب کے پون

 مسیحائی


کیسی چلی اب کے پون

ہے آدمی ہی آدمی سے محترز

آماجگاہوں میں

ہوئے ہیں قید ہم

کرنے لگے

کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی

 کاش کہ


کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی

تیرے کمرے کے کونے میں

رکھی ہوئی الماری کے

اک خانے میں

خاموشی سے بیٹھی رہتی

سردی کی یہ پہلی بارش اور برہا کے دن

 سردی کی یہ پہلی بارش اور بِرہا کے دن

ساری رینا جیا جلے رے ساجن تورے بِن

کا سے کہوں اس دل کی بتیاں سکھی نہ کوئی سہیلی

ساجن بھی جا دور بسے ہیں جیون راہ اکیلی

ڈالی ڈالی پھول کھلیں گے صبحیں ہوں گی روشن

من آنگن میں دیپ جلیں گے جب آئیں گے ساجن

Sunday, 6 June 2021

اپنے ہونے کی کیا دہائی دیں

 اپنے ہونے کی کیا دُہائی دیں

کوئی دیکھے تو ہم دکھائی دیں

ایک دل جو نہیں سنبھال سکے

ان کے ہاتھوں میں کیا خدائی دیں

دل کی مسند پہ لا بٹھایا ہے

اب کہاں تک تمہیں رسائی دیں

Tuesday, 20 April 2021

جب بھیگے بھیگے لہجے میں سب بھنورے گیت سناتے ہیں

 یوں لگتا ہے تم آئے ہو


جب بھیگے بھیگے لہجے میں

سب بھنورے گیت سناتے ہیں

جب من آنگن کے پیڑوں پر

خوش رو پنچھی کچھ گاتے ہیں

جب ڈالی ڈالی بگیا میں

گُل اپنی مہک لٹاتے ہیں