کبھی جب فون کی سکرین پر
نمبر تمہارا جگمگاتا ہے
اور اک مخصوص سی گھنٹی
سماعت کے دریچوں کو
ذرا سا کھٹکھٹاتی ہے
مِرے دل کے نہاں خانے میں
کبھی جب فون کی سکرین پر
نمبر تمہارا جگمگاتا ہے
اور اک مخصوص سی گھنٹی
سماعت کے دریچوں کو
ذرا سا کھٹکھٹاتی ہے
مِرے دل کے نہاں خانے میں
دل ہے کہ جانے کیوں یہ تِری آرزو کرے
جب تُو نہ سامنے ہو تری گفتگو کرے
اک تُو کہ آسماں کی بلندی سے بھی بلند
اک یہ زمیں پہ رہ کے تِری جستجو کرے
ممکن نہیں ہے تجھ سے ملاقات زندگی
تُو کون ہے جو پھر بھی تِری آرزو کرے
مسیحائی
کیسی چلی اب کے پون
ہے آدمی ہی آدمی سے محترز
آماجگاہوں میں
ہوئے ہیں قید ہم
کرنے لگے
کاش کہ
کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی
تیرے کمرے کے کونے میں
رکھی ہوئی الماری کے
اک خانے میں
خاموشی سے بیٹھی رہتی
سردی کی یہ پہلی بارش اور بِرہا کے دن
ساری رینا جیا جلے رے ساجن تورے بِن
کا سے کہوں اس دل کی بتیاں سکھی نہ کوئی سہیلی
ساجن بھی جا دور بسے ہیں جیون راہ اکیلی
ڈالی ڈالی پھول کھلیں گے صبحیں ہوں گی روشن
من آنگن میں دیپ جلیں گے جب آئیں گے ساجن
اپنے ہونے کی کیا دُہائی دیں
کوئی دیکھے تو ہم دکھائی دیں
ایک دل جو نہیں سنبھال سکے
ان کے ہاتھوں میں کیا خدائی دیں
دل کی مسند پہ لا بٹھایا ہے
اب کہاں تک تمہیں رسائی دیں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
جب بھیگے بھیگے لہجے میں
سب بھنورے گیت سناتے ہیں
جب من آنگن کے پیڑوں پر
خوش رو پنچھی کچھ گاتے ہیں
جب ڈالی ڈالی بگیا میں
گُل اپنی مہک لٹاتے ہیں