Tuesday, 20 April 2021

جب بھیگے بھیگے لہجے میں سب بھنورے گیت سناتے ہیں

 یوں لگتا ہے تم آئے ہو


جب بھیگے بھیگے لہجے میں

سب بھنورے گیت سناتے ہیں

جب من آنگن کے پیڑوں پر

خوش رو پنچھی کچھ گاتے ہیں

جب ڈالی ڈالی بگیا میں

گُل اپنی مہک لٹاتے ہیں

اور سُندر روپ سجاتے ہیں

یوں لگتا ہے تم آئے ہو


خُوشبو جب گھُلے ہواؤں میں

سرمستی مست فضاؤں میں

شوخی ہو حشر اداؤں میں

اور تھِرکن سی ہو پاؤں میں

یوں لگتا ہے تم آئے ہو


جب دل کا موسم اچھا ہو

جب من آنگن بھی مہکا ہو

جب بُوٹا بُوٹا نِکھرا ہو

اور چاند فلک پر پورا ہو

یوں لگتا ہے تم آئے ہو


میں بیٹھے بیٹھے ہنستی ہوں

اور ہنستے ہنستے روتی ہوں

میں اپنی بھیگی آنکھوں میں

جب وصل کے خواب پروتی ہوں

یوں لگتا ہے تم آئے ہو

یوں لگتا ہے تم آئے ہو


سعدیہ کوکب

No comments:

Post a Comment