یوں لگتا ہے تم آئے ہو
جب بھیگے بھیگے لہجے میں
سب بھنورے گیت سناتے ہیں
جب من آنگن کے پیڑوں پر
خوش رو پنچھی کچھ گاتے ہیں
جب ڈالی ڈالی بگیا میں
گُل اپنی مہک لٹاتے ہیں
اور سُندر روپ سجاتے ہیں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
خُوشبو جب گھُلے ہواؤں میں
سرمستی مست فضاؤں میں
شوخی ہو حشر اداؤں میں
اور تھِرکن سی ہو پاؤں میں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
جب دل کا موسم اچھا ہو
جب من آنگن بھی مہکا ہو
جب بُوٹا بُوٹا نِکھرا ہو
اور چاند فلک پر پورا ہو
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
میں بیٹھے بیٹھے ہنستی ہوں
اور ہنستے ہنستے روتی ہوں
میں اپنی بھیگی آنکھوں میں
جب وصل کے خواب پروتی ہوں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
سعدیہ کوکب
No comments:
Post a Comment